صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 296
۲۹۶ ۱۱ - كتاب الجمعة صحيح البخاری جلد ۲ مسند عبد الرزاق اور مسند احمد بن حنبل کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عاتکہ دوسری نمازیں بھی مسجد نبوی میں پڑھتی تھیں۔(مصنف عبد الرزاق كتاب الصلاة۔باب شهود النساء والجماعة۔جلد ۳ صفحه ۱۴۸ روایت نمبر۵۱۱۱) (مسند احمد بن حنبل جزء اول صفحه ۴۰ روایت نمبر ۲۸۵) مگران دو وقتوں میں خاص کر آنے کی تخصیص کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ عوالی میں رہتی تھیں اور یہ فراغت کے اوقات تھے۔اس لئے یہ خیال صحیح نہیں کہ امام بخاری نے روایت نمبر ۹۰۰ جو مطلق ہے روایت نمبر ۸۹۹ پر جورات کے وقت سے مقید ہے محمول کیا ہے۔اس صورت میں امام موصوف کے عام اصول کے تحت ترتیب میں محمول علیہا روایت نمبر ۹۰۰ پہلے ہونی چاہیے تھی اور محمولہ روایت نمبر ۸۹۹ اس کے بعد۔مگر ایسا نہیں اس لئے امام بخاری کا منشاء یہی معلوم ہوتا ہے کہ بالیل کی تخصیص در حقیقت اس لئے تھی کہ صحابہ کرام اپنی بیویوں کو دن کے وقت باہر جانے سے نہیں روکتے تھے۔مسلم کی روایت کے الفاظ يَتَّخِذُنَهُ دَغَلا بھی اسی بات کی تائید کرتے ہیں۔(مسلم كتاب الصلاة، باب خروج النساء الى المساجد ) علاوہ ازیں یہ امر بالتحقیق ثابت ہے کہ عورتیں دن کے وقت بھی نمازوں میں شریک ہوا کرتی تھیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۹۲۲) کتاب الاذان میں امام بخاری اس مسئلہ میں اپنی رائے وضاحت سے بیان کر چکے ہیں جو مذکورہ بالا قیاس کی تائید کرتی ہے (دیکھئے تشریح کتاب الاذان باب ۱۶۲ تا باب ۱۶۶، جن میں عورتوں کے لئے صریح حکم کا ذکر ہے کہ وہ مسلمانوں کے دینی اجتماعات میں شریک ہوا کریں۔) جمعہ سے بڑھ کر اور کون سا مبارک اجتماع ہو سکتا ہے، جس کی مشروعیت محض تزکیہ نفس کے لئے ہو۔عورتوں کی گھریلو زندگی اور ان کا رسومات و تو ہمات میں خاص طور پر مبتلا ہونا یہ دونوں باتیں ان کے لئے اور بھی زیادہ ضروری قرار دیتی ہیں کہ وہ جمعہ کے دن وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھا ئیں۔باب نمبر ۱۲ ۱۳ کا اصل مضمون روایت نمبر ۸۹۸ سے واضح ہے کہ شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی رو سے ہر مسلمان پر خواہ وہ نو عمر ہی ہو ہفتہ میں ایک دن نہانا ضروری ہے۔جمعہ کے تقدس اور یہود کے اختلاف کا ذکر کر کے پھر اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا ذکر کرنے سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ جمعہ کے دن اس حکم کی تعمیل زیادہ مناسب ہے۔قطع نظر اس سے کہ جمعہ پڑھنا کسی کے لئے واجب ہو یا نہ ہو، اسلام ظاہری صفائی اور طہارت کو بلوغت یا غیر بلوغت سے مشروط نہیں کرتا۔روایت نمبر ۸۹۸ یعنی ابان کی سند کا حوالہ دینے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے۔باب ١٤ : الرُّحْصَةُ إِن لَّمْ يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَطَر اجازت ہے اگر بوجہ بارش جمعہ میں حاضر نہ ہو ۹۰۱: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۹۰۱ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل إِسْمَاعِيْلُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ ( بن علیہ ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: