صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 292 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 292

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۲ ١١ - كتاب الجمعة بھی کیا تھا۔(کتاب العلم روایت نمبر ۸۷) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کا عمل اور ان کے اس عمل کے برخلاف ممانعت کا مروی نہ ہوتا احناف کی رائے کو کمز ور ثابت کرتا ہے۔ابن ابی شیبہ ابن خزیمہ بہتی اور عبدالرزاق نے اپنی اپنی شروط کے مطابق سندوں کے ساتھ کچھ روایتیں نقل کی ہیں جو امام مالک کے مذہب کی تائید کرتی ہیں کہ جہاں بھی باجماعت نماز ادا کی جائے وہاں نماز جمعہ پڑھنا بھی واجب ہے۔(مصنف ابن ابى شيبه - كتاب الجمعة - باب من كان يرى الجمعة فى القرى وغيرها - جزء اول صفحه ۴۴۰ روایت ۵۰۶۸) (سنن الكبرى للبيهقى - كتاب الجمعة - باب العدد الذين اذا كانوا في قرية وجبت عليهم الجمعة) (مصنف عبدالرزاق - كتاب الجمعة باب القرى الصغار جزء ۳۰ صفحه ۷۰ اروایت نمبر ۵۱۸۵) (فتح الباری جزء ثانی صفحه ۴۸۹،۴۸۸) امام بخاری نے دوسری روایت نمبر ۸۹۳ نقل کی ہے۔اس میں ابن شہاب زہری کا صریح فتوی مذکورہ ہے۔رزیق جنہوں نے ان سے فتویٰ پوچھا ہے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے مقام ایلہ کے حاکم تھے جو بحیرہ قلزم کے ساحل پر مدینہ اور مصر کے درمیان واقع ہے اور وہ اس وقت شہر سے باہر کھیتوں میں تھے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۴۹ ) ابن شہاب نے فتوی دیتے ہوئے حدیث کلکمْ رَاعٍ سے بھی استدلال کیا ہے جس سے پایا جاتا ہے کہ پاسبان کے جملہ فرائض میں سے یہ فرض بھی ہے کہ وہ اپنی رعیت کی ہر پہلو سے نگہداشت رکھے اور جمعہ سے بہتر اور کوئی موقع نہیں کہ جس میں لوگوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ بہتر صورت میں ادا کیا جا سکے۔اس لئے جہاں بھی نماز با جماعت ہوگی وہاں فریضہ جمعہ کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، خواہ شہر میں ہو یا جنگل میں۔احناف نے جمعہ کے لئے نہ صرف شہر کی شرط عائد کی ہے بلکہ ان کا یہ مذہب بھی ہے کہ بغیر اجازت سلطان یا خلیفہ وقت جمعہ نہیں پڑھا جا سکتا۔مگر مذکورہ بالا روایت سے ظاہر ہے کہ رزیق ” نے بجائے خلیفہ وقت عمر بن عبد العزیز کے ابن شہاب سے فتویٰ طلب کیا ہے۔اس سے اس مخصوص اجازت کا بھی رد پایا جاتا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۴۹۰) ہر ایک فرد کسی نہ کسی اعتبار سے اپنے حلقہ اثر میں نگران اعلیٰ کی حیثیت رکھتا ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھئے بداية المجتهد۔کتاب الصلاة۔الباب الثالث من الجملة الثالثة۔الفصل الثاني في شروط الجمعة بَاب ۱۲ : هَلْ عَلَى مَنْ لَّمْ يَشْهَدِ الْجُمُعَةَ غُسْلٌ مِنَ النِّسَاءِ وَالصَّبْيَانِ وَغَيْرِهِمْ جو عورتیں بچے وغیرہ جمعہ میں حاضر نہ ہوں کیا ان کے لئے نہانا واجب ہے۔وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا الْغُسْلُ عَلَى مَنْ حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے کہ نہانا صرف انہی کے لئے تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ۔واجب ہے جن پر جمعہ واجب ہے۔٨٩٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا :۸۹۴ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ شعیب نے ہمیں بتایا۔زہری سے مروی ہے کہ انہوں