صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 291
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۱ ١١ - كتاب الجمعة وَسَلَّمَ يَقُوْلُ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ نسبت پوچھا جائے گا۔بادشاہ بھی پاسبان ہے اور اس مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ الْإِمَامُ رَاعٍ سے اس کی رعیت کے بارے میں پرسش ہوگی اور مرد بھی وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي اپنے گھر والوں کا پاسبان ہے اور اس سے بھی اس کی أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر کی پاسبان ہے۔اور اس سے اس کی رعیت رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ کے بارے میں پوچھا جائے گا۔نوکر بھی اپنے آقا کے رَعِيَّتِهَا وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنْ مال کا پاسبان ہے۔اس سے بھی اس کی رعیت کے بارے میں پرسش ہوگی (سالم) کہتے تھے اور میرا خیال قَدْ قَالَ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيْهِ ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا: اور مرد اپنے باپ کے مال کا وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَكُلُّكُمْ رَاعٍ پاسبان ہے اور وہ بھی اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔جائے گا اور تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔اطرافه ٢٤٠٩، ۲٥٥٤، ۲۰۰۸، ۲۷۵۱، ۵۱۸۸، ۵۲۰۰، ۷۱۳۸ تشریح ہے۔احناف برخلاف امام مالک کے نماز جمعہ کی صحت و وجوب کے لئے شہر کی شرط عائد کرتے ہیں اور دیہات میں جمعہ پڑھانا جائز نہیں سمجھتے اور اس رائے کی تائید میں حضرت علی اور حضرت حذیفہ کی سند پیش کی جاتی ہے۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے عہد خلافت میں دیہات میں بھی جمعہ پڑھایا جاتا تھا اور اول الذکر خلیفہ نے بحرین والوں کو حکم دیا تھا کہ جہاں کہیں بھی تم ہو جمعہ پڑھو ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۸۸ ) ( عمدۃ القاری جز ۶۰ صفحه ۷ ۱۸-۱۸۸) صحابہ کرام کی روایت میں اگر اختلاف ہو تو ترجیح مرفوع روایت کو ہوگی۔امام بخاری نے مذکورہ بالا اختلاف حل کرنے کے لئے روایت نمبر ۸۹۲ پیش کی۔مَسْجِدُ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ: جوانی بحرین میں عبد القیس کی ایک بستی تھی اور اہل دیہات میں سے عبدالقیس سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور مسجد نبوی کے معا بعد ان کی مسجد میں پہلا جمعہ پڑھا گیا تھا اور ظاہر ہے کہ ان کا یہ فعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں ہی تھا۔صحابہ کرام کوئی کام اپنی مرضی سے نہ کرتے تھے۔حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ عبد القیس کو اسلام میں سبقت حاصل ہے اور ان کا فعل حجت ہے۔کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دین سیکھنے کے لئے آئے اور اس غرض کے لئے مدینہ میں کچھ عرصہ قیام الْجُمُعَةُ فِى الْقُرى وَالْمُدُن: یہ باب بھی ایک اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لئے باندھا گیا