صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 285 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 285

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۵ ۱۱ - كتاب الجمعة صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا بْنَ الْخَطَّابِ الله مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا۔ حضرت عمر عُمَرُ يَا رَسُوْلَ اللهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے یہ پہننے کو دیا ہے قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ قَالَ حالانکہ آپ عطارد کے جوڑے کی نسبت فرما چکے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ ہیں، جوفرما چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا تھا کہ اسے خود پہنو۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مشرک بھائی کو أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لا أَخَا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا۔ پہننے کے لئے دے دیا جو مکہ میں تھا۔ اطرافه: ٩٤٨، ٢١٠٤ ، ٢٦١٢، ٢٦١٩ ، 3054 ، 5841، 5981، 6081۔ تشريح : يَلْبَسُ أَحْسَنَ مَا يَجِدُ : به عنوان باب دوسری روایتوں سے لیا گیا ہے۔ جن میں لبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِه ۔ (ابو داؤد ۔ كتاب الطهارة۔ باب في الغسل يوم الجمعة) لَبِسَ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِه ۔ (صحیح ابن خزيمه۔ كتاب الجمعة۔ باب النهي عن التفريق بين الناس في الجمعة) {یعنی اس نے اپنے عمدہ ترین لباس میں سے پہنا کے الفاظ مروی ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : فتح الباری جزء ۲ صفحه (۴۸) روایت ۸۸۶ زیر باب ہذا میں عمدہ لباس پہننے کا ذکر نہیں بلکہ بظاہر ممانعت کا ذکر ہے اور امام بخاری نے اس ممانعت سے ایک لطیف استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صرف ریشمی لباس پہننے سے روکا ہے نہ کہ مطلق عمدہ لباس ہے۔ جیسا کہ إِنَّمَا يَلْبِسُ هَذِہ کے الفاظ اس تخصیص پر دلالت کرتے ہیں۔ آپ نے جمعہ کے روز اور وفدوں کی ملاقات کے وقت عمدہ لباس پہننے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا۔ حلت و حرمت، جائز و نا جائز سے متعلق احکام اسی اصل پر مبنی ہیں کہ ممنوعہ اشیاء کا ذکر کر کے باقی کے بارہ میں وسعت دے دی ہے۔ جیسا کہ محرم کے لئے لباس پہننے کی نسبت دریافت کرنے پر فرمایا کہ فلاں فلاں لباس نہ پہنا جائے۔ (دیکھئے کتاب الصلوۃ ، باب ۹، روایت نمبر ۳۶۶) اسی طرح کھانے پینے کی اشیاء کے حلال و حرام سے متعلق بھی ہیں۔ ابوداؤد اور ابن خزیمہ کی روایتیں عمدہ لباس پہننے کے بارے میں واضح ہیں۔ مگر چونکہ امام بخاری کی شرطوں کے مطابق نہیں، اس لئے اس لطیف استدلال کی طرف رجوع کیا گیا ہے۔