صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 284
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۱ - كتاب الجمعة بالطبع ایک ایسی ذہنی کیفیت پیدا ہوگی جس کی برکت سے اس کے گناہ یکے بعد دیگرے پوشیدہ ہوتے جائیں گے۔سیرت صالحہ جس کا آج کل متعارف نام کیریکٹر یا کردار ہے دراصل چھوٹے چھوٹے امور میں نفس کی نگہداشت سے ہی بنتی ہے۔ادیب در حقیقت وہ شخص ہے جسے اپنے حرکات و سکنات پر پورا پور اضبط حاصل ہو۔مسجد در حقیقت بہت بڑی اسلامی تربیت گاہ ہے۔اس میں نماز سمجھ کر اور پوری شرائط کے ساتھ ادا کی جائے تو یہ تزکیہ نفس کا باعث ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی جاذب۔ہر جمعہ میں امام نماز کی غرض و غایت کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے اور اس طرح اس مسلسل وعظ ونصیحت کو توجہ سے سننے والے اور اس کے مطابق عمل کرنے والے مغفرت اور رحمت کا مورد بنتے ہیں۔یہی مفہوم ہے غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الأخرى کا۔اس جملہ سے یہ مراد نہیں کہ انسان ہفتہ بھر گناہ کرتا جائے اور پھر جمعہ کے دن مذکورہ بالا باتوں پر عمل کرنے سے وہ بخش دیا جائے گا۔مسلمانوں میں جو آج پاکیزگی کی روح سرد ہوگئی ہے اگر چہ وہ نماز جمعہ میں شریک ہوتے ہیں اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ان کے اعمال محض ایک رسم و رواج کی صورت و شکل اختیار کر گئے ہیں۔ذہنتیں مردہ اور خطبے بے جان۔جن کو نہ خطبے پڑھنے والے سمجھتے ہیں اور نہ سننے والے۔ورنہ جمعہ کا اجتماعی نظام ایک بہترین نظام ہے جو مسلمانوں میں پاکیزہ زندگی کی روح قائم رکھنے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔باب ۷ : يَلْبَسُ أَحْسَنَ مَا يَجِدُ عمدہ سے عمدہ لباس جو مل سکے پہنے ٨٨٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۸۸۶ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، عبداللہ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ نَّافِعِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کی کہ حضرت عمر حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ بن خطاب نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا دیکھا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر يَا رَسُوْلَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے روز پہنا کریں اور فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا نما سندوں کی ملاقات کے وقت بھی جب وہ آپ کے نمائندوں قَدِمُوْا عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله پاس آئیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو وہی شخص عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔پھر اس لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَاءَتْ رَسُوْلَ اللهِ کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس اس قسم کے کچھ