صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 283
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۳ ١١ - كتاب الجمعة وَأَصِيبُوْا مِنَ الطَّيِّبِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أَمَّا ابن عباس نے جواب دیا غسل سے متعلق جو روایت الْغُسْلُ فَنَعَمْ وَأَمَّا الطَّيْبُ فَلَا أَدْرِي ہے وہ درست ہے اور خوشبو کی نسبت میں نہیں جانتا۔اطرافه ٨٨٥ ٨٨٥: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۸۸۵: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ہشام بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ انہیں خبر دی۔کہا: ابراہیم بن میسرہ نے مجھے بتایا۔مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسِ عَنِ ابْنِ عَبَّاس انہوں نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ علیہ وسلم کے ارشاد کا ذکر کیا جو جمعہ کے روز نہانے سے متعلق ہے تو میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا: آیا خوشبو یا تیل بھی لگائے۔اگر اس کے گھر والوں کے پاس ہو۔انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسِ أَيَمَسُّ طِيْبًا أَوْ دُهَنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ فَقَالَ لَا أَعْلَمُهُ۔اطرافه: ٨٨٤ تشریح: میں سے لگاتا ہے۔اس سے یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ انسان اپنی ضروریات کو اپنے پاس مہیا ر کھے۔یہ نہ ہو کہ یہ چیزیں معمولی سمجھ کر لوگوں سے مانگتا پھرے۔گھر سے مراد بیوی ہے۔جیسا کہ دوسری مستند روایتوں میں ان الفاظ سے تصریح ہے وَمَسَّ مِنْ طِيْبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا۔(ابوداؤد - كتاب الطهارة-باب في الغسل يوم الجمعة) یعنی وہ اپنی بیوی سے خوشبو لے کر لگائے اگر اس کے پاس ہو۔الدُّهُنُ لِلْجُمُعَةِ : اس باب کی روایت نمبر ۸۳ میں یہ جو تخصیص ہے اپنے تیل یا اپنے گھر کی خوشبو غُفِرَ لَهُ مَابَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأخْرى: مغفرت کے معنے پہلے واضح کئے جاچکے ہیں۔(دیکھئے کتاب الایمان- تشریح روایت نمبر ۳۵ زیر باب (۲۵) اور زیر روایت نمبر ا یہ امر بھی واضح کیا جاچکا ہے کہ نیتوں میں جس قدر قوت ہو گی اسی قدر قوت اعمال میں بھی ہوگی۔پس جو شخص نماز جمعہ کے لئے نہانے ، دھونے ،صاف ستھرا لباس پہننے، خوشبو لگانے اور مسجد میں اول وقت پہنچنے میں خاص اہتمام کرے گا اور لوگوں کو تکلیف دینے سے یہاں تک احتیاط کرے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں لوگوں میں نہیں گھستا اور نفل پڑھ کر امام کے انتظار میں خاموش بیٹھ جاتا ہے اور پھر پوری توجہ سے ہمہ تن گوش ہو کر خطبہ سنتا ہے تو ایسے شخص کے اندر ان چھوٹے چھوٹے امور کا اہتمام کرنے کی وجہ سے