صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 282
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۲ ۱۱ - كتاب الجمعة بَاب ٦ : الدُّهْنُ لِلْجُمُعَةِ جمعہ کی وجہ سے تیل لگانا ۸۸۳ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ۸۸۳ : آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب نے أَبِي ذَنْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ سعید مقبری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَخْبَرَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ وَدِيْعَةَ عَنْ سَلْمَانَ کہا: مجھے میرے والد نے بتایا کہ انہوں نے ابن ودیعہ سے، ابن ودیعہ نے حضرت سلمان فارسی سے روایت کی ۔ انہوں الْفَارِسِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص لا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ جمعہ کے دن نہاتا ہے اور جہاں تک اس کے لئے پاک وصاف ہونا ممکن ہے مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ پاک وصاف ہوتا ہے اور اپنے تیل میں سے تیل لگاتا أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيْبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلَا ہے یا اپنے گھر کی خوشبو میں سے خوشبو لگاتا ہے۔ پھر نکلتا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ ہے اور دو آدمیوں کے درمیان گھس کر ان کو الگ نہیں کرتا۔ ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ إِلَّا غُفِرَ لَهُ پھر نماز پڑھتا ہے جتنی اس کے لئے مقدر ہو۔ اس کے بعد مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى۔ جب امام لوگوں سے مخاطب ہوتا ہے تو وہ خاموشی سے سنتا اطرافه ۹۱۰ ہے تو اس کے جو بھی گناہ اس جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک ہوں گے ان سے اس کی مغفرت کر دی جائے گی۔ ٨٨٤: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۸۸۴: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے کہ طاؤس ( بن طَاوُسٌ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ذَكَرُوا أَنَّ کیسان) نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس سے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ پوچھا: لوگ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن نہایا کرو اور اپنا سر رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا دھویا کرو خواہ جنبی نہ بھی ہو اور خوشبو بھی لگاؤ ۔ حضرت