صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 279
صحيح البخاری جلد ۲ ١١ - كتاب الجمعة أَعْلَمُ أَوَاجِبْ هُوَ أَمْ لاَ وَلَكِنْ هَكَذَا جو ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آیا یہ واجب ہے یا نہیں۔الْحَدِيْثِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هُوَ أَخُو لیکن حدیث میں اسی طرح ہے۔ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَلَمْ يُسَمَّ أَبُو بَكْرٍ نے کہا: ابوبکر بن منکدر،محمد بن منکدر کے بھائی ہیں۔هَذَا رَوَاهُ عَنْهُ بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَحَ وَسَعِيْدُ ابوبکر کا نام نہیں بتایا گیا صرف کنیت ملتی ہے ) بْنُ أَبِي هِلَالٍ وَعِدَّةٌ وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ ان سے بگیر بن اشتج اور سعید بن ابی ہلال اور چند اور الْمُنْكَدِرِ يُكْنَى بِأَبِي بَكْرٍ وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ لوگوں نے روایتیں نقل کی ہیں اور محمد بن منکدر کی کنیت ابوبکر اور ابوعبداللہ تھی۔اطرافه ۸۵۸، ۸۷۹، ۸۹۵، ٢٦٦٥۔تشریح: الطَّيِّبُ لِلْجُمُعَةِ : لفظ وجوب کا سابقہ مفہوم مزید مثالوں سے واضح کیا گیا ہے، یعنی باعتبار افضلیت جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔اسی طرح مسواک کرنا اور خوشبو لگانا بھی۔یہ سب باتیں بطور افضل ہونے کے ضروری ہیں۔مگر فرض نہیں کہ بغیر ان کے نماز ہی نہ ہو۔ابوبکر بن المنکد رباب ۳ کی روایت نمبر ۸۸۰ کے آخر میں ایک شبہ کا ازالہ بھی کیا ہے۔جس کا تعلق سند روایت سے ہے۔منکدر کے دو بیٹے تھے اور دونوں کی کنیت ابو بکر تھی۔یہاں مراد محمد بن منکد رنہیں جن کی کنیت ابوعبداللہ بھی تھی اور اپنے نام محمد سے مشہور تھے بلکہ ان کے بھائی ہیں جو ابو بکر کی کنیت سے مشہور تھے۔یہ راوی مدنی اور تابعی ہیں۔شعبہ کے علاوہ دوسروں نے ان سے روائتیں کی ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جلد جزء ثانی صفحه ۴۷۰) بَاب ٤ : فَضْلُ الْجُمُعَةِ جمعہ کی فضیلت ۸۸۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ :۸۸۱ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيَ مَوْلَى أَبِي ہمیں مالک نے بتایا۔انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمن بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ کے آزاد کردہ غلام سمی سے، سمی نے ابو صالح سمان السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الله أَنَّ سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابو اللہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَن روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ جمعہ کے دن نہایا اسی طرح جس طرح جنابت میں نہایا