صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 278 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 278

۲۷۸ ١١ - كتاب الجمعة صحيح البخاری جلد ۲ بھری مجلس میں حضرت عمرؓ کا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی یاد دہانی کرانا، حضرت عثمان کا بغیر غسل کے نماز پڑھ لینا اور صحابہ کرام کا اعتراض نہ کرنا یہ اجماع کا حکم رکھتا ہے۔حضرت عائشہ کی روایت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ غسل کا حکم صفائی وغیرہ کی غرض سے تھانہ اس لئے کہ وہ صحت نماز جمعہ کے لئے بطور شرط ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۹۰۲) هَلْ عَلَى الصَّبِيِّ شَهُودُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ اَوْ عَلَى النِّسَاءِ : عنوان باب میں ایک اور مسئلہ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔یعنی بچوں اور عورتوں کا جمعہ میں شریک ہونا۔ابوداؤد وغیرہ کی روایات میں بالصراحت آتا ہے الجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِى جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَّمُلُوكَ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيضٌ۔(ابوداؤد۔كتاب الصلاة باب الجمعة للملوك والمراة) {جمعہ ہر مسلمان پر باجماعت ادا کرنا واجب ہے۔سوائے چار اشخاص کے یعنی غلام، عورت، بچے اور مریض کے۔یہ روایت امام بخاری کی شروط کے مطابق نہیں۔اسی وجہ سے روایت نمبر ۸۷۹ کے الفاظ عَلَی کُلِّ مُحْتَلِم کی بناء پر مسئلہ مذکورہ کی طرف اشارہ کر کے جواب مقدر رکھا ہے۔احتلام مردوں کی بلوغت پر اور حیض عورتوں کی بلوغت پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے شریعت کے احکام ان پر واجب ہوتے ہیں۔لفظ مُختلِم سے امام بخاری کا نقطہ نظر ظاہر ہے۔(فتح الباری جز رثانی صفحه ۴۶۵ ) بَاب ٣ : الطَّيِّبُ لِلْجُمُعَةِ جمعہ کے دن خوشبو لگانا ۸۸۰: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا ۸۸۰: علی بن عبد اللہ بن جعفر ) نے ہم سے بیان حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کیا ، کہا: حرمین بن عمارہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ حَدَّثَنِي شعبہ نے ہمیں بتایا۔ابوبکر بن منکد رسے مروی ہے عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَشْهَدُ کہ ابوبکر نے کہا: عمرو بن سلیم انصاری نے مجھ سے عَلَى أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى بیان کیا کہا: میں ابوسعید خدری) کی نسبت گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْغُسْلُ گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے فرمایا: ہر جوان پر جمعہ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِم کے دن نہانا واجب ہے اور یہ کہ وہ مسواک بھی کیا وَأَنْ يَسْتَنَّ وَأَنْ يُمَسَّ طِيْبًا إِنْ وَّجَدَ کرے اور خوشبو بھی لگائے اگر مل جائے۔قَالَ عَمْرُو أَمَّا الْغُسْلُ فَأَشْهَدُ أَنَّهُ عمرو بن سلیم) کہتے تھے بغسل کے بارہ میں تو میں گواہی وَاجِبٌ وَأَمَّا الْإِسْتِنَانُ وَالطَّيبُ فَاللَّهُ دیتا ہوں کہ وہ واجب ہے اور مسواک کرنا اور خوشبو لگانا