صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 272
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۷۲ بات الحالي -١١ - كِتَابُ الْجُمُعَةِ بَاب ۱ : فَرْضُ الْجُمُعَةِ جمعہ کا فرض ہونا ۱۱ - كتاب الجمعة لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق : جب جمعہ کے روز نماز يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا کے لیے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کے لئے چل پڑو الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔یہ تمہارے لئے بہتر (الجمعة: ١٠) { فَاسْعَوْا فَامْضُوا }۔ہے۔اگر تم جانو۔فَاسْعَوْا کے معنی ہیں چل پڑو۔* ٨٧٦ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۸۷۶ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ نے ہمیں بتایا، کہا: ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا کہ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُ الْأَعْرَجَ عبد الرحمن بن ہرمزاعرج نے ان کو بتایا۔جو کہ ربیعہ مَوْلَى رَبِيْعَةَ بْن الْحَارِثِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ بن حارث کے آزاد کردہ غلام تھے۔انہوں نے سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ہم سب نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ سے پیچھے آنے والے ہیں۔قیامت کے دن سب الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ سے آگے ہوں گے۔ہاں اتنی بات ہے کہ ان کو ہم قَبْلِنَا ثُمَّ هَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرضَ سے پہلے کتاب ملی۔پھر یہی ان کا وہ دن ہے جو ان پر عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِيْهِ فَهَدَانَا اللهُ لَهُ فرض کیا گیا تھا۔تو انہوں نے اس کے بارے فَالنَّاسُ لَنَا فِيْهِ تَبَعَ الْيَهُودُ غَدًا میں اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس میں ہماری حمد الفاظ فَاسْعَوْا فَامْضُوا حموی کی روایت میں ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۵۶)