صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 12 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 12

صحيح البخاري - جلد ۲ ۱۲ ١٠ - كتاب الأذان حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ اسحاق بن راہویہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ وهب بن جریر جریر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى نَحْوَهُ۔ اطرافه : ٦١٣، ٩١٤۔ یکی سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ بچی سے اسی طرح مروی ہے۔ ۔۔۔۔ ٦١٣ : قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي بَعْضُ ۶۱۳: یحی نے کہا: اور ہمارے بعض بھائیوں نے إِخْوَانِنَا أَنَّهُ قَالَ لَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَی مجھ سے بیان کیا کہ (عیسی بن طلحہ ) کہتے تھے : جب الصَّلَاةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مَوَزّن نے) کہا: حَيَّ عَلَى الصَّلوة تو (حضرت وَقَالَ هَكَذَا سَمِعْنَا نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ معاویہؓ نے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ۔ اطرافه: ٦١٢، ٩١٤۔ انہوں نے کہا: ہم نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے سنا۔ تشريح : مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِيَ : اس باب میں تین روایتیں ہیں جو میں تین روایتیں ہیں جو مل کر ایک مکمل حکم اپنے اندر /////// رکھتی ہیں، جس پر جمہور کا اتفاق ہے اور وہ یہ کہ مؤذن کے ساتھ اذان سننے والا کلمات اذان دہرائے۔ سوائے حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ اور حَيَّ عَلَی الْفَلاح کے ۔ ان الفاظ کو سن کر لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہنا چاہیے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۱۲۰) الظلام حول کے معنی پھرنا ، ایک طرف ہونا۔ نیز ۔ نیز حول کے معنی حیلہ یعنی چارہ۔ (لسان العرب۔ تحت لفظ حول) لا حول کے یہ معنی ہیں کہ بدیوں سے بچنے کا کوئی حیلہ یا چارہ نہیں ، اِلَّا بِالله مگر اللہ تعالیٰ ہی کے ذریعہ سے۔ قوة کے معنی کام کرنے کی طاقت ۔ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ کے یہ معنی ہیں کہ نیکی کرنے کی طاقت نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ہی کے ذریعہ سے۔ چونکہ کلمات حَيَّ عَلَى الصَّلوة اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ اطاعت الہی اور کامیابی کی راہوں کی طرف بلاتے ہیں، اس لئے شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ حکم ہے کہ اس وقت انسان الفاظ مذکورہ بالا میں دُعا کرے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا طالب ہو۔ مقام غور ہے کہ مؤذن کے ساتھ جب مسلمان مرد، عورت، بڑے، چھوٹے سبھی اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔ لَا إِلهَ إِلَّا الله کے الفاظ دہرائیں گے تو کیا ہی عجیب نظارہ ہوگا کہ پانچ بار ایک ہی وقت میں سب لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو جائیں گے اور در و دیوار اور فضائے عالم ذکر الہی کی صدا سے گونج اُٹھے گی۔