صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 216
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۶ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ۱۳۷ : لَا يَكُفُّ شَعَرًا اپنے بالوں کو نہ سمیٹے ٨١٥: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ :۸۱۵: ابونعمان نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهْوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو کہ حماد جوابن زید ہیں، نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ عمرو بن دینار سے،ابن دینار نے طاؤس سے، طاؤس أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے سَبْعَةِ أَعْظُم وَلَا يَكُفَّ ثَوْبَهُ وَلَا شَعَرَهُ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور نہ اپنے کپڑے بھیں اور نہ بال۔ اطرافه: ۸۰۹، ۸۱۰، ۸۱۲، ٨١٦۔ تشريح : لا يكف شعرا : اله تعالى بحر صلی اللہ علیہ سل کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے فَحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّجِدِينَ ( الحجر : ۹۹) یعنی تو اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے اس کی تسبیح کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو۔ اسی طرح سورہ دہر میں فرماتا ہے: وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا (الدھر: ۲۷) یعنی رات کے وقت بھی اس کے سامنے سجدہ کیا کر اور رات کو دیر تک اس کی تسبیح کیا کر۔ پھر سورہ علق میں فرماتا ہے: كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدُ وَاقْتَرِبُ (العلق : ۲۰) یعنی اے نبی! تو کافر کی اطاعت نہ کر اور صرف اپنے رب کے حضور میں سجدہ کر اور اس سجدہ کے نتیجہ میں اپنے رب کے قریب تر ہو جا۔ اسی طرح بیسیوں جگہ سجدہ کا حکم دہرایا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے سجدہ کی کیفیت واضح فرمائی ہے کہ سات اعضاء اس میں شامل ہوں ۔ پیشانی بینی ، دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ۔ یعنی کل سات اعضاء۔ خود قرآن مجید سے بھی سجدہ کی اس مخصوص کیفیت کا علم ہوتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے : سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ (الح ۳۰) یعنی ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدہ کے نشانات سے ہوتی ہے۔ چہرہ میں ماتھا اور ناک شامل ہے۔ اسی طرح فرماتا ہے: وَيَخِرُّونَ لِلاذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا (بنی اسرائیل: ۱۱۰) یعنی وہ ادھان کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور دعا انہیں خشوع ( فروتنی ) میں بڑھاتی ہے اَذْقَانٌ، ذَقَن کی جمع ہے اور دفن کے معنی ہیں جبڑوں کا جوڑ یعنی ٹھوڑی۔ چنانچہ کہتے ہیں: ذَقَنَ عَلَى يَدِهِ أَوْ عَصَاهُ۔ یعنی اپنے ہاتھ یا چھڑی پر ٹھوڑی رکھ کر سہارا لیا۔ اَذْقَانِ آیت میں بطور استعارہ استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد ما تھا ، ہاتھ ، گھٹنے ، پاؤں سبھی ہیں۔ جن کے بل سجدہ میں گرا جاتا ہے۔ ۔ ان کے بغیر سجدہ مکمل نہیں : ہوتا۔