صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 215 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 215

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۵ ١٠ - كتاب الأذان النَّبِيُّ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّيْنِ اتنے میں ایک پتلا سا بادل آیا اور ہم پر برسا۔ نبی وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ یہاں تک کہ میں نے رسول عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقَ رُؤْيَاهُ ۔ اللہ ﷺ کی پیشانی اور بینی * پر کیچڑ اور پانی کا نشان بھی دیکھ لیا اور آپ کا خواب سچا ہوا ۔ اطرافه ٦٦٩، ٨٣٦، ۲۰۱٦، ۲۰۱۸، ۲۰۲۷ ، ٢٠٣٦، ٢٠٤٠۔ باب ١٣٦ : عَقْدُ الثَّيَابِ وَشَدُّهَا ( نماز میں ) کپڑوں کو گرہ لگانا اور ان کو باندھنا وَمَنْ ضَمَّ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ إِذَا خَافَ أَنْ اور اگر کسی کو خوف ہو کہ اس کا ننگ ظاہر ہو جائے گا ، وہ تَنْكَشِفَ عَوْرَتُهُ۔ اپنے کپڑے کو اپنے جسم کے ساتھ لگا کر تھامے رکھے۔ ٨١٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ :۸۱۴ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا انہوں نے أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ کہا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم بْنِ سَعْدٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّوْنَ مَعَ سے، ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت سے روایت کی ، کہا: النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور وہ عَاقِدُوْا أُزْرِهِمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ اپنے نہ بندوں کے چھوٹے ہونے کی ی وجہ سے ال فَقِيْلَ لِلنِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوْ سَكُنَّ حَتَّى اپنی گردنوں پر باندھتے اور عورتوں سے کہہ دیا گیا تھا ان کو يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا۔ کہ تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھاؤ جب تک مرد سیدھے ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔ اطرافه: ٣٦٢، ١٢١٥۔ تشریح : عَقْدُ القِيَابِ وَشَدُّهَا : باب ۱۳ کی پہلی دو روایتوں میں پڑا اکٹھا کرنے کی مانعت کا ذکر گذر چکا ہے۔ یہاں اس استثنائی صورت کا ذکر کیا گیا ہے جس میں کپڑا چھوٹا ہونے کی وجہ سے ننگا ہونے کا ڈر ہو تو ایسی صورت میں ہاتھوں سے اس کو سنبھال کر رکھنا جائز ہوگا۔ لیکن بالوں سے متعلق کوئی استثناء نہیں۔ جیسا کہ اس کی وضاحت اگلے باب میں کر دی گئی ہے۔ اس ضمن میں کتاب الصلواۃ باب ۶ کی تشریح دیکھئے۔ بینی: ناک (فیروز اللغات )