صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 130 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 130

صحیح البخاری جلد ۲ ۱۳۰ ١٠ - كتاب الأذان ۷۲۹: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا :۷۲۹: محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا ، کہا : عَبْدَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحی بن سعید انصاری عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ سے، کیا نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہؓ سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی ۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے حجرہ میں نماز پڑھ رہے يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي حُجْرَتِهِ وَجِدَارُ الْحُجْرَةِ قَصِيرٌ فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أُنَاسٌ عليه يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحُوا فَتَحَدَّثُوا تھے اور حجرہ کی دیوار پست تھی۔ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ کھڑے ہو کر آپ کی نماز کی اقتداء میں پڑھنے لگے اور انہوں نے صبح کو اس سے متعلق ذکر کیا۔ دوسری رات بھی آپ تہجد پڑھنے کے ساتھ کچھ لوگ بِذَلِكَ فَقَامَ لَيْلَةَ الثَّانِيَةِ فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ کے- يُصَلُّوْنَ بِصَلَاتِهِ صَنَعُوْا ذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ کھڑے ہو گئے۔ آپ کی نماز کی اقتداء میں نماز أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَلَسَ پڑھنے لگے ۔ دو یا تین راتیں انہوں نے ایسا ہی کیا۔ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ اس کے بعد جب ( نماز کا وقت ) ہوا تو رسول اللہ يَخْرُجْ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ صلى اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور نماز کے لئے نہیں فَقَالَ إِنِّي خَشِيْتُ أَنْ تُكْتِبَ عَلَيْكُمْ نکلے ۔ جب آپ صبح کو باہر گئے تو لوگوں نے اس کا صَلَاةُ اللَّيْلِ۔ ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: میں ڈر گیا کہ تم پر رات کی نماز فرض ہو جائے گی۔ اطرافه: ۷۳۰، ۹۲۴، ۱۱۲۹، ۲۰۱۱، ٢٠١٢، ٥٨٦١۔ تشريح : إِذَا كَانَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَبَيْنَ الْقَوْمِ حَائِط : یا اک شہر اختلافی مسلہ اور امام مالک کے نزدیک کوئی حرج نہیں اگر امام اور مقتدی ۔ اور مقتدی کے درمیان اوٹ ہو ۔ (عمدۃ القاری جزء ۵ صفحه ۲۶۲ تا ۲۶۳) سعید بن منصور نے صحیح نے بیچ سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ امام کے پیچھے چھت پر اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ابو ہے۔ امام ابو حنیفہ اسی صورت میں نخوره میں نماز جائز سمجھتے ہیں جب صفیں ایک دوسرے دوسرے سے سے ملی ملی ملی : ہوتی ہوں اور محبی اور ابراہیم نخعی حقی نے راستہ کا درمیان ہونا مکروہ سمجھا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۵ صفحه ۲۶۳٬۲۶۲) حسن بصری امام مالک کی رائے سے متفق ہیں ۔ ابو مجلز کے نزدیک جو ایک مشہور تابعی ہیں تکبیر سننا شرط ہے۔ امام بخاری نے اپنی رائے کا اظہار صراحتا نہیں کیا۔