صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 117
صحیح البخاري - جلد ۲ ۱۱۷ ١٠ - كتاب الأذان لَهُمْ تَقَدَّمُوا فَاتَمُوا بِى وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ۔ (مسلم، كتاب الصلاة باب تسوية الصفوف واقامتها) يعنى نبي صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ کے صحابہ فاصلہ پر ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ رکوع و سجود میں آپ کی اتباع نہ کر سکیں۔ اس لئے آپ نے فرمایا : آگے ہو جاؤ اور تم میری اتباع کرو اور تمہاری اتباع وہ کریں جو تمہارے پیچھے ہیں۔ امام بخاری نے جس روایت سے استدلال کیا ہے وہ روایت نمبر ۶۸۴۲۶۶۴ میں گزر چکی ہے۔ ان کی تشریح دیکھی جائے ، وہاں بتایا جا چکا ہے کہ افاقہ محسوس کرنے کا واقعہ آخری واقعہ (یعنی پردہ اُٹھا کر دیکھنے کے واقعہ ) سے پہلے کا ہے۔ بَاب ٦٩ : هَلْ يَأْخُذُ الْإِمَامُ إِذَا شَكٍّ بِقَوْلِ النَّاسِ جب امام کو شک ہو تو کیا وہ لوگوں کے کہنے پر عمل کرے؟ ٧١٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۷۱۴: عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا ۔ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي انہوں نے مالک بن انس سے، مالک نے ایوب بن تَمِيْمَةَ السَّخْتِيَانِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ابی تمیمہ سختیانی سے، ایوب نے محمد بن سیرین سے، رة سِيْرِيْنَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ رسول الله صلى الله علیہ و علیہ وسلم نے دو ہی رکعتیں پڑھ کر اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقَصُرَتِ سلام پھیر دیا۔ تو ذوالیدین نے آپ سے کہا: یا رسول الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ اللہ ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ذوالیدین أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ نے ٹھیک کہا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں تو رسول اللہ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آخری دور کعتیں پڑھیں۔ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ پھر آپ نے سلام پھیرا۔ اس کے بعد الله اكبر فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ۔ کہا اور سجدہ کیا اسی طرح کہ جس طرح آپ نے پہلا سجدہ کیا تھایا اس سے کسی قدر لمبا۔ اطرافه ۱۸۲، ۷۱۵ ۱۲۲۷، ۱۲۲۸، ۱۲۲۹، 6051، ٧٢٥٠۔