صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 115 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 115

صحیح البخاری جلد ۲ ۱۱۵ ١٠ - كتاب الأذان انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھی گئی وہ نماز فریضہ اسی پر قیاس کی جاسکتی ہے۔ اس شخص کی نماز بھی جو باجماعت پڑھ لینے کے بعد پھر وہی نماز دوسرے لوگوں کو پڑھاتا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر اپنی بستی میں جاتے اور وہاں لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل کو جائز قرار دیا ہے۔ پہلی نماز میں اس نیت کی وجہ سے کہ میں یہاں سے جا کر دوسرے لو سے جا کر دوسرے لوگوں کو نماز پڑھاؤں گا۔ ان کی پہلی نماز نفل تھی اور دوسری نماز فریضہ۔ بَاب ٦٨ : الرَّجُلُ يَأْتَمُ بِالْإِمَامِ وَيَأْتَمُ النَّاسُ بِالْمَأْمُوْمِ ایک شخص امام کی اقتداء کرے اور لوگ اس مقتدی کی اقتداء کریں وَيُذْكَرُ عَنِ النَّبِيِّ له انْتَمُّوا بي اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایتاً ذکر کیا جاتا ہے کہ وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ۔ آپ نے فرمایا: تم میری پیروی کرو اور جو تمہارے پیچھے ہیں وہ تمہاری پیروی کریں۔ ۷۱۳ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ۷۱۳: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ہمیں ابو معاویہ نے بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اعمش نے ابراہیم ابران سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں : جب وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہوئے تو حضرت مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقُلْتُ يَا بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے آئے۔ رَسُوْلَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ آپؐ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز مَتَى مَا يَقُمْ مَّقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ پڑھا ئیں ۔ تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! حضرت ابو بکر أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ تو نرم دل آدمی ہیں ۔ جلدی ہی نمکین ہو جاتے ہیں بِالنَّاسِ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُوْلِي لَهُ إِنَّ اور وہ تو جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيْفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ کچھ سنائیں گے نہیں۔ اس لئے اگر آپ محضرت عمرؓ کو مَّقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ فرمائیں۔ اس پر آپ ائیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ابوبکر سے کہا ابو بکر سے کہو لوگوں