صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 112
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۱۲ ١٠ - كتاب الأذان تیسری میں ہے: مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجُدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَاءِ ه - چوٹی کے الفاظ بھی تقریباً یہی ہیں ۔ مفہوم سب کا ایک ہی ہے۔ یعنی آپ اپنے فرض منصبی کی ادائیگی گی میں غایت درجہ حساس تھے۔ اس کے مقابل ایک وہ گروہ ہے جو اپنی قرأت، خوش الحانی یا کسی دوسرے جذبہ سے مقتدیوں کی پرواہ نہیں کرتا۔ ایسے لوگ اپنے نفس کے مغلوب ہوتے ہیں اور اپنے آقا کے نمونہ کو بھول جاتے ہیں ۔ ان روایتوں کے لانے سے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ نبی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باوجود یکہ نماز آپ کے ۔ پ کے لئے ( قرۃ العین ) آنکھوں کی ٹھنڈک تھی اور باوجود اس امر کے کہ آپ کی خواہش ہوتی کہ اسے لمبی کریں۔ عند الضرورت آپ اسے مختصر کر دیتے تھے اور آپ کی یہ مختصر نماز باوجود ہلکی ہونے کے کامل ہوتی تھی ۔ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلُوةٍ وَلَا أَتَمَّ مِنَ النَّبي ال ( روایت نمبر ۷۰۸ نماز لمبی یا ہلکی کرنے سے قرآت لمبی یا چھوٹی کرنی مراد ہے۔ روایت نمبر ۷۰۸ کی شہادت سے عیاں ہے کہ فطرت انسانی غایت درجہ حد اعتدال پر واقع ہے۔ قرآت کے لمبا یا مختصر پڑھنے سے متعلق ایک اختلاف کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مسئلہ کا عنوان لفظ من کے ساتھ شروع کیا ہے۔ یعنی اگر مقتدی لمبی قرأت پسند کریں تو قرآت لمبی کرنا جائز ہے یا نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ بعد میں ایسے لوگ شامل ہوں جو پسند نہ کرتے ہوں۔ (دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۲۶۳) باب ٦٦ : إِذَا صَلَّى ثُمَّ أَمَّ قَوْمًا جب نماز پڑھ چکے اور پھر لوگوں کا امام بنے ۷۱۱: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ ۷۱۱ سلیمان بن حرب اور ابو نعمان نے ہم سے وَأَبُو النُّعْمَانِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ بیان کیا ۔ دونوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عمرو بن جَابِرٍ قَالَ كَانَ مُعَادٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ دينار ہے، انہوں نے حضرت جابرؓ سے روایت ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ۔ کی ۔ کہا: حضرت معاذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر وہ اپنے لوگوں کے پاس آتے اور انہیں نماز پڑھاتے ۔ اطرافه: ۷۰۰، ۷۰۱، 705، 6106۔