صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 111
صحيح البخاری جلد ۲ 111 ١٠ - كتاب الأذان ۷۱۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ :۷۱۰ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوعدی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِي عَنْ سَعِيدٍ عَنْ کے بیٹے نے ہمیں بتایا۔ انہوں سعید سے، سعید نے قتادہ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک سے، انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَدْخُلُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ نے فرمایا: میں فِي الصَّلَاةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ تو نماز شروع کرتا ہوں اور اسے لمبا کرنے کا ارادہ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ کرتا ہوں کہ اتنے میں بچے کا رونا سنتا ہوں تو میں اسے شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ۔ مختصر کر دیتا ہوں ۔ اس لئے کہ میں اس تکلیف کو جانتا ہوں، جو ماں کو بچے کے رونے سے پہنچتی ہے۔ وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ اور موسیٰ نے کہا: ابان نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہمیں بتایا ( کہا: ) حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ۔ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں اسی طرح بتایا۔ اطرافه: ۷٠٦، ۷۰۸، ۷۰۹۔ تشريح : مَنْ أَخَفَّ الصَّلَاةَ عِنْدَ بُكَاءِ الصَّبِ : یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ ماہ میں سب سے نماز سب بڑا جہاد توجہ قائم رکھنی اور خشوع و خضوع کی حالت پیدا کرنی ہے۔ ورنہ کچھ فائدہ نہیں۔ ( باب نمبر ۴۲۰۲۱) اسی مقصد کے فوت ہونے کا خوف تھا۔ جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیا کرتے تھے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے پہلی رکعت میں لمبی سورۃ پڑھی۔ دوسری میں ۔ بچے کے رونے کی آواز سن کر صرف تین آیتیں پڑھیں ۔ مصنف ابن ابي شيبه۔ كتاب الصلوات۔ باب من كان يخفف الصلاة لبكاء الصبي يسمعه ) یہ مثال ہے اس نازک احساس کی جو آپ مقتدیوں سے متعلق رکھتے تھے۔ (اس ضمن میں دیکھئے باب ۴۰، ۴۱ ، ۶۰ ۶۱ ) یعنی ایسا شفیقا نہ خیال جو ماں کو اپنے بچے سے متعلق ہوتا ہے۔ اس کی طرف توجہ دلانے کے لئے ایک خاص ترتیب کے ساتھ مضمون روایت نمبر ۷۰۹، ۱۰ے پر ختم کیا گیا ہے۔ فَاتَجَوْزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَّةَ اَنْ اَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ : مذکورہ بالا روایتوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عورتیں بھی باجماعت نماز میں شامل ہوتی تھیں اور وہ بچوں کو عموماً گھروں میں چھوڑ آتیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کسی پاس کے گھر سے بچے کے رونے کی آواز سنی یا مسجد میں سے ہی۔ باب مذکور کے ذیل میں چار روایتیں لائی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی روایت میں یہ ذکر ہے: كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّةٍ دوسری میں یہ الفاظ ہیں: مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ ۔