صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 15
صحيح البخاری جلد ا ۱۵ ا - كتاب بدء الوحي خط وحدانی میں ظاہر کر دیا ہے۔پہلی روایت عروہ بن زبیر کی ہے اور یہ ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف انصاری کی۔علماء میں اختلاف ہے کہ پہلی وحی کونسی ہے؟ آیا اقرا باسم رَبِّكَ۔۔۔يَا يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِرُ ، قُمْ فَأَنْذِرُ۔۔۔امام بخاری نے اپنے استاد ابن شہاب محمد بن مسلم زہری علیہ الرحمہ کی سند پر اس اختلاف کو یوں حل کیا ہے کہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رنگ زمانہ نبوت کے ابتداء میں پہلی وحی ہے اور يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِرُ زمانہ فترت کے بعد پہلی وحی ہے۔يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِرُه قُمْ فَأَنْذِرُ۔۔۔فَاهْجُرُه (المدثر : ۲-۲) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اغراض بیان کی گئی ہیں۔یعنی اللہ تعالی کی بڑائی قائم کرنا اور بنی نوع انسان کو ہر قسم کی گندگیوں سے رہائی دے کر پاکیزگی کے مقام پر کھڑا کرنا۔ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ سے مراد ظاہری پاکیزگی ہے۔وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ سے مراد باطنی پاکیزگی ہے۔رجز کے معنی ہر قسم کی ناپاک باتیں ہر کا نہ اعتقادات اور بیہودہ خیالات ہیں۔احکام الہیہ کی بجا آوری میں سب سے پہلے مخاطب انبیاء ہی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا عملی نمونہ جس قدر اعلیٰ سے اعلیٰ ہوگا۔اس قدر پاکیزہ تاثیرات اپنے ساتھ رکھے گا اور اسی نسبت سے دنیا اس سے مستفیض ہوگی۔بَوَادِرُ جمع ہے بَادِرَة کی۔وہ گوشت جو مونڈھے اور گردن کے درمیان ہوتا ہے۔(لسان العرب تحت لفظ بدر ) بعض وقت ڈر سے یہ گوشت پھڑکنے لگتا ہے۔باب ٤ ه: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ قَالَ : ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ابو عوانہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: موسیٰ بن ابی أَبِي عَائِشَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ عائشہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے اللہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى لَا تُحَرِكْ تعالٰی کے اس قول یعنی لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (القيامة :١٧) قَالَ لِتَعْجَلَ بہ کے متعلق ہمیں بتلایا کہ وہ کہتے تھے۔كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی وحی کے نازل يُعَالِجُ مِنَ التَنْزِيْلِ شِدَّةً وَكَانَ مِمَّا ہونے سے سخت تکلیف اُٹھاتے اور کبھی آپ اپنے يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَنَا ہونٹ بھی ہلایا کرتے تھے۔حضرت ابن عباس نے کہا: میں تمہیں ہونٹوں کو اسی طرح ہلا کر دکھاتا ہوں أُحَرِّكُهُمَا لَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہلایا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا وَقَالَ کرتے تھے۔اور سعید نے کہا: میں بھی انہیں اسی