صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 666
صحيح البخاري - جلد ا पपय ۹ - كتاب مواقيت الصلوة پیروؤں کو عبادت کرنے کی تلقین کی ہے۔مگر عشاء کا وقت اسلام ہی میں عبادت کے لئے خاص کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۵۶۶ کے الفاظ مَا يَنتَظِرُهَا أَحَدٌ کی تشریح دوسری روایت کے الفاظ لَيْسَ أَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ سے کر دی گئی ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بغیر کسی وجہ کے روایت نہیں دُہراتے صحیح بخاری کی تجرید کرنے والوں نے امام موصوف " کی پر حکمت ترتیب ملحوظ نہیں رکھی۔بطحان : مدینہ میں ایک وادی کا نام ہے۔جس میں حضرت ابوموسیٰ اشعری اور ان کے ساتھی خیمہ زن تھے۔(عمدۃ القاری جزء۵ صفحہ ۶۵) یہ زمانہ فتح خیبر کے قریب کا ہے۔وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ : علامہ ابن حجر نے علامہ طبری کے حوالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مصروفیت کی وضاحت کی ہے کہ آپ اس وقت ایک فوج کی تیاری میں مشغول تھے، اس لئے دیر سے نماز عشاء کے لئے باہر تشریف لائے۔(فتح الباری الجزء الثانی صفحه ۶۴) باب ۲۳ : مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ عشاء سے پہلے سونا جو نا پسند کیا جاتا ہے ٥٦٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۵۶۸ محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ التَّقَفِيُّ عبد الوہاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: خالد قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَدَّاءُ عَنْ أَبِي حذاء نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابومنہال الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ سے، ابو منہال نے ابو برزہ سے روایت کی کہ رسول صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الله صلى اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور اس النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيْثَ بَعْدَهَا۔کے بعد بات کرنا نا پسند فرماتے تھے۔اطرافه ٥٤١ ٥٤٧، ۰۹۹، ۷۷۱۔بَاب ٢٤: النَّوْمُ قَبْلَ الْعِشَاءِ لِمَنْ غُلِبَ جس پر نیند غالب آجائے اس کے لئے عشاء سے پہلے سونا ٥٦٩: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ۵۶۹ ایوب بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا : قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ ابوبکر نے مجھے بتایا۔سلیمان سے مروی ہے کہ صالح قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ أَخْبَرَنِي ابْنُ بن کیسان نے کہا: ابن شہاب نے مجھے خبر دی۔عروہ