صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 4
صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي عَنْهَا أَنَّ الْحَارِثُ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللهُ حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی عَنْهُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ كَيْفَ يَأْتِيْكَ صلى اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے الْوَحْيُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله پاس وحی کس طرح آیا کرتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَانًا يَأْتِيْنِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ علیہ وسلم نے جواب دیا: کبھی تو گھنٹی کی چھنکار کی مانند الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّي وہ میرے پاس آتی ہے اور یہ ( وحی ) مجھ پر سخت ترین وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَلُ ہوتی ہے اور وہ مجھ سے ایسی حالت میں الگ ہوتی ہے کہ جو اس نے کہا ہوتا ہے میں اُسے ذہن نشین کر الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِيْ مَا چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں میرے يَقُوْلُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے اور وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي جو وہ کہتا ہے میں اسے ذہن نشین کئے جاتا ہوں۔الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپؐ پر وحی سخت سردی کے دن نازل ہوتی لِيَ جَبِيْنَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا۔طرفه: ٣٢١٥۔اور پھر آپ سے ایسی حالت میں جدا ہوتی کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا ہوتا۔تشریح: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ : كَيْفَ بَدَه الوخ کے عنوان کے تحت دوسری صدی جوامام بخاری الْوَحْيِ نے نقل کی ہے، اس میں وحی کی کیفیت کے متعلق دو مشاہدے مذکور ہیں۔ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جن پر وہ کیفیت گذرتی ہے اور ایک حضرت عائشہ کا جو اس کیفیت کے ظاہری آثار دیکھنے والی ہیں۔جو جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن ہشام کو دیا اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وحی کی صرف یہی دو صورتیں ہیں۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نمونہ ان صورتوں کی دو بڑی قسمیں بیان فرمائی ہیں جو آسانی سے سمجھی جاسکتی ہیں اور یہ دونوں حالتیں قوائے جسمانیہ پر گراں گذرتی ہیں۔پہلی حالت زیادہ سخت ہے۔قَدْ وَغَيْتُ یعنی جب وحی کی یہ حالت موقوف ہوتی ہے تو وہ کلام میرے ذہن میں نقش ہو چکا ہوتا ہے۔وحی کے معنی پتھر پر لکیر ڈالنے کے بھی ہوتے ہیں۔(لسان العرب تحت لفظ و حي ) اور دوسری حالت کے متعلق فرمایا: فأعي۔یعنی میں ساتھ ساتھ وہ کلام ذہن نشین کرتاجاتا ہوں۔اس میں شعور