صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 643
البخارى- جلد ا ۶۴۳ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة ٥٤٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ ۵۴۶ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن عیینہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، زہری نے عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتي وقت میں پڑھتے کہ دھوپ ابھی میرے کمرے میں لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ وَقَالَ مَالِكٌ ہوتی، سایہ ابھی نہ چڑھتا۔اور مالک اور یحی بن سعید وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَشُعَيْبٌ وَ ابْنُ أَبِي اور شعیب اور ابن ابی حفصہ نے کہا: اور دھوپ (ان حَفْصَةَ وَالشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ۔کے کمرے میں ہوتی ) پیشتر اس کے کہ سایہ چڑھتا۔اطرافه ٥٢٢، ٥٤٤، ٥٤٥، 3103۔٥٤٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل :۵۴۷ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عبداللہ نے ہمیں بتایا، کہا: عوف نے سیار بن سلامہ عَوْفٌ عَنْ سَيَّارِ بْن سَلَامَةَ قَالَ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبر دی۔انہوں نے دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ کہا: میں اپنے باپ کے ساتھ حضرت ابو برزہ اسلمی الْأَسْلَمِي فَقَالَ لَهُ أَبِي كَيْفَ كَانَ کے ہاں گیا اور میرے باپ نے ان سے کہا: رسول رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے پڑھا کرتے تھے؟ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي تو انہوں نے کہا کہ آپ دو پہر کی نماز جس کو تم پیشیں الْهَجِيْرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأَوْلَى حِيْنَ کہتے ہو اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج ڈھل تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ جاتا تھا اور عصر کی نماز (ایسے وقت میں ) پڑھا کرتے يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى تھے کہ پھر ہم میں سے ایک اپنے ٹھکانے میں جو کہ شہر الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيْتُ مَا کے سب سے دور حصے میں ہوتا واپس چلا جاتا اور قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ سورج ابھی روشن ہوتا اور جو انہوں نے مغرب سے يُؤَخِّرَ مِنَ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُوْنَهَا متعلق کہا تھا وہ میں بھول گیا اور آپ عشاء میں جسے تم