صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 642
البخارى- جلد ا ۹ - كتاب مواقيت الصلوة ہے اور وہ قول کی طرح ناطق نہیں ہوتا۔اس لیے اُن کے نزدیک اوقات کی پابندی سے متعلق نص صریح کے ہوتے ہوئے نمازیں اپنے وقت پر نہ پڑھنا جائز نہیں، نہ سفر میں ، نہ حضر میں۔مگر یہ قومی اپنے ساتھ عملی مشکلات رکھتا ہے۔باقی ائمہ نے اُن کی یہ دلیل اور فتویٰ تسلیم نہیں کیا۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ثابت ہے اور اُس کے بعد صحابہ کرام کا عمل درآمد بھی ثابت ہے جو آپ کی سنت کو بہتر سمجھنے والے تھے تو احتمالات پیدا کر کے اپنے لیے خواہ مخواہ ملی مشکلات پیدا کر لینا الدين يُسر کی تعلیم کے مطابق نہیں۔مزید تفصیل کے لیے دیکھئے:۔حُجْرَتِها۔(فتح البارى الجزء الثاني۔صفحه (۳۳) ، (عمدة القارى الجزء الخامس۔صفحه ۳۱) (بداية المجتهد۔كتاب الصلوة۔الجملة الثالثة۔الباب الرابع الفصل الثاني في الجمع) بَاب ۱۳: وَقْتُ الْعَصْرِ عصر کا وقت وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ مِنْ قَعْرِ اور ابو اسامہ نے کہا: ہشام سے مروی ہے کہ دھوپ ابھی حضرت عائشہ کے کمرے کے اندر ہی ہوتی۔٥٤٤ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۵۴۴ ابرہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عائشہؓ فرماتی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجُ نماز پڑھا کرتے اور ابھی دھوپ ان کے کمرے کے اندر سے نہ نکلی ہوتی۔مِنْ حُجْرَتِهَا۔اطرافه: ٥٢٢، ٥٤٥، ٥٤٦، ٣١٠٣۔٥٤٥ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۴۵ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں لیٹ : اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ نے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عَائِشَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے عروہ سے ،عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ اور دھوپ ابھی کمرہ ہی میں تھی اور سایہ ان کے کمرے سے نکل کر ( دیوار پر نہیں چڑھا تھا۔حُجْرَتِهَا۔اطرافه: ٥٢٢، ٥٤٤، ٣١٠٣،٥٤٦۔