صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 631
ری جلد ا ۶۳۱ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة يَتْفِلَنَّ عَنْ يَمِيْنِهِ وَلَكِنْ تَحْتَ قَدَمِهِ پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔اس الْيُسْرَى وَقَالَ سَعِيْدٌ عَنْ قَتَادَةَ لَا لیے چاہیئے کہ اپنی دائیں طرف نہ تھو کے بلکہ اپنے يَتْفِلُ قُدَّامَهُ أَوْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَكِنْ عَنْ بائیں پاؤں کے نیچے۔اور سعید نے کہا: قتادہ سے يَّسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ شُعْبَةُ لَا مروی ہے کہ اپنے آگے یا اپنے سامنے نہ تھو کے۔يَبْزُقُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِيْنِهِ وَلَكِنْ بلکہ اپنے بائیں یا اپنے قدموں کے نیچے اور شعبہ نے عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ وَقَالَ کہا: اپنے آگے اور اپنی دائیں طرف نہ تھو کے بلکہ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ اپنی بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے اور حمید نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْزُقُ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا حضرت انس سے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ عَنْ يَمِيْنِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہا: قبلہ کی طرف نہ تھو کے اور نہ اپنی دائیں طرف بلکہ اپنی بائیں طرف قَدَمه۔یا اپنے پاؤں کے نیچے۔اطرافه: ٢٤١، ٤٠٥، ٤۱۲ ، ٤١٣ ، ١٧، ٥٣٢، ١٢١٤۔٥٣٢ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ ۵۳۲: حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ قَالَ حَدَّثَنَا بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قتادہ نے ہمیں قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله بتایا۔انہوں نے حضرت انس سے، حضرت انسؓ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: السُّجُوْدِ وَلَا يَبْسُطْ ذِرَاعَيْهِ سجدے میں اپنے جسم کو ٹھیک رکھو اور کتے کی طرح كَالْكَلْبِ وَإِذَا بَزَقَ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ (کوئی) اپنے بازو نہ پھیلائے اور جب تھو کے تو اپنے يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِيْنِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ سامنے نہ تھوکے اور نہ اپنی دائیں طرف کیونکہ وہ اپنے رب سے راز و نیاز کی باتوں میں مشغول ہوتا ہے۔تشریح اطرافه: ٢٤١، ٤٠٥، ٤١٢ ، ٤١٣، 417، 531، 1114۔نا جي يُنَاجِي مُنَاجَاةً ونِجَاء کے معنی علیحدہ ہو کر راز کی بات کرنا۔نماز میں یہی کیفیت ہوتی ہے۔ایسا نمازی تمام دھندوں اور فکروں سے خالی الذہن ہوکر اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوتا ہے۔یہ باب قائم کرنے سے اس جذبہ شوق کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو ایک مومن کے دل میں نماز کے لیے ہونا