صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 630 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 630

ری جلد ا ۶۳۰ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة يُبْكِيْكَ فَقَالَ لَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِّمَّا بات رُلارہی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جن باتوں کو میں أَدْرَكْتُ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَهَذِهِ نے پایا تھا اُن میں سے کسی بات کو بھی نہیں دیکھتا سوا الصَّلَاةُ قَدْ ضُيِّعَتْ وَقَالَ بَكْرٌ حَدَّثَنَا اس نماز کے اور یہ نماز بھی ضائع کر دی گئی ہے۔اور بکر مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ الْبُرْسَانِيُّ أَخْبَرَنَا (بن خلف) نے کہا: ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ عثمان بن ابی روّاد نے ہمیں اسی طرح عُثْمَانُ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ نَحْوَهُ۔طرفه ٥٢٩ تشریح: بتایا۔نماز ضائع کرنے سے مراد نماز پڑھنے میں اتنی دیر کر دینا کہ اس کا وقت نکل جائے یا اس کے بعد پڑھنا۔وقت کے بعد پڑھنا گویا اس کو ضائع کر دینا ہے: اَلَيْسَ صَنَعْتُم مَّا صَنَعْتُمُ فِيهَا سے یہی مراد ہے کہ اس زمانہ میں امراء اسلام نے جو نماز کی حفاظت کے سب سے پہلے ذمہ دار تھے۔اوقات نماز کی پابندی میں کمی کر دی تھی۔یہ ولید بن عبد الملک کا زمانہ امارت ہے یعنی پہلی صدی کا اخیر۔جن واقعات کی بناء پر حضرت انس بن مالک کو افسوس کا اظہار کرنا پڑا اُن کا مختصر ذکر علامہ ابن حجر نے فتح الباری ( جزء ثانی صفحہ ۱۹-۲۰) میں کیا ہے۔ان روایتوں سے امراء کے بعض دفعہ نماز بہت دیر کر کے پڑھنے کا پتہ چلتا ہے۔مگر اس دیر کے سبب کا کہیں بھی ذکر نہیں۔اُس وقت خلیفہ یا امیر یا حاکم اعلیٰ ہی نماز پڑھایا کرتا تھا۔باب ۳۶ : من صلى بالناس جماعةً بعد ذهاب الوقتِ روایت نمبر ۵۹۶ سے ظاہر ہے کہ بعض وقت تاخیر کے جائز وجوہ بھی پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔ایسا ہی حضرت ابن عباس کی روایت نمبر ۵۴۳ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض وقت نمازیں جمع کیں۔مگر جس حالت کو دیکھ کر حضرت انس روپڑے ہیں وہ غیر معمولی معلوم ہوتی ہے اور احکام الہی کی پابندی کا جو شوق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھاوہ بعد کے زمانہ میں نہ رہا۔بعض نسخوں میں صَنَعْتُمُ کی جگہ ضَيَّعْتُمْ ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۹) باب :: الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نماز پڑھنے والا اپنے رب عزوجل سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے ٥٣١ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۳۱: مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے۔قتادہ نے قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت انسؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى يُنَاجِي رَبَّهُ فَلَا صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب نماز