صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 629 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 629

صحيح البخاری جلد ا ۶۲۹ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ فَذَلِكَ مَثَلُ دے گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ کوئی میل بھی نہیں الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِ رہنے دے گا ۔ آپؐ نے فرمایا: یہ پانچوں نمازوں کی الْخَطَايَا۔ مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ تری کی ایک نماز کو اہم شرط پڑھ لیے اور باقی نمازوں میں سنتی اور غفلت کرنے سے روحانی اصلاح کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ پانچوں نمازیں ہر روز اس طریق پر پڑھی جائیں جو پڑے جو پڑھنے کا حق ہے ورنہ مقصد حاصل نہ ہوگا۔ ہر مقصد کے حصول کے لیے عمل پیہم اور التزام شرط ہے۔ باب ۷ : تَضْبِيعُ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا نماز کو اپنے وقت سے ضائع کر دینا ٥٢٩ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۲۹ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ مہدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے غیلان سے، غیلان أَنَسٍ قَالَ مَا أُعْرِفُ شَيْئًا مِّمَّا كَانَ نے حضرت انس سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ان عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باتوں میں سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قِيلَ الصَّلَاةُ قَالَ أَلَيْسَ صَنَعْتُمْ مَّا تھیں میں اب کچھ بھی نہیں پہچانتا۔ کہا گیا: نماز ( جو صَنَعْتُمْ فِيهَا ۔ طرفه: ٥٣٠ ہے ) حضرت انس نے کہا: کیا تم نے اس میں بھی وہ کچھ نہیں کیا جو کیا ہے۔ ٥٣٠ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ :۵۳۰ عمرو بن زرارہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِل عبد الواحد بن واصل ابو عبیدہ حداد نے ہمیں بتایا۔ أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي انہوں نے عثمان بن ابی رواد؛ عبدالعزیز کے بھائی رَوَّادٍ أَخِي عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ سَمِعْتُ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے زہری کو الزُّهْرِيَّ يَقُوْلُ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ کہتے سنا کہ میں دمشق میں حضرت انس بن مالک کے مَالِكِ بِدِمَشْقَ وَهُوَ يَبْكِيْ فَقُلْتُ مَا پاس آیا اور وہ رورہے تھے۔ میں نے کہا: آپ کو کیا