صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 627
البخاری جلد ا ۶۲۷ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة جس فتنہ کا تعلق ہبر اور است ہے وہ یہی بیوی بچوں اور مال وغیرہ کا فتنہ ہے۔انہی کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے میں سُست اور غافل ہو جاتا ہے۔روایت نمبر ۵۲۶ میں جس آیت کے نازل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورۃ ہود آیت نمبر ۱۱۵ ہے جو مکہ میں نازل ہوئی تھی مگر مذکورہ بالا واقعہ مدینہ کا ہے جیسا کہ ترمذی وغیرہ کی روایتوں میں تصریح ہے۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ ہود ) اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ فَانزَلَ اللہ کے الفاظ بمعنی تطبیق استعمال کئے گئے ہیں یعنی آپ نے اس آیت کا حوالہ دے کرنیکیوں کی ترغیب دی۔بَابِهِ : فَضْلُ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا اپنے وقت پر نماز پڑھنے کی فضیلت ۵۲۷ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ :۵۲۷ ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے ہم سے ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: ولید بن عیز ار قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ نے مجھے بتایا۔وہ کہتے تھے: میں نے ابوعمر وشیبانی کو سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَ يَقُولُ یہ کہتے سنا کہ اس گھر والے نے ہمیں بتایا اور انہوں حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ نے حضرت عبد اللہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيِّ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ پوچھا: کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارا ہے؟ فرمایا: نماز أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا وقت پر پڑھنا۔انہوں نے کہا: پھر کونسا؟ فرمایا: پھر والدین سے اچھا سلوک کرنا۔انہوں نے کہا: پھر قَالَ ثُمَّ أَيِّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ کونسا ؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔(حضرت ثُمَّ أَيُّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ قَالَ عبد الله ) نے کہا کہ (رسول اللہ ﷺ نے ) یہ حَدَّثَنِي بِهِنَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَى اللَّهُ ( تین باتیں) مجھے بتائیں اور اگر میں آپ سے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوِ اسْتَرَدْتُهُ لَزَادَنِي۔پوچھتا تو آپ مجھے اور بتاتے۔اطرافه ۲۷۸۲، ٥۹۷۰، ٧٥٣٤۔تشریح : عنوان باب ۵ میں علی وقتها کی جگہ لو فیھا رکھا گیاہے۔تاضمنا اس مضمون کی طرف توجہ دلائی جائے جو کتاب المواقیت کے پہلے باب میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی نماز پڑھنے کی فضیلت اس لیے ہے کہ وہ وقت پر الفاظ رَسُولُ الله فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۱۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔