صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 626 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 626

اری جلد ا ۶۲۶ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا بوسہ لیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ اس نے آپ کو بتایا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ نازل فرمائی: أَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ۔دن کے يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (هود: (١١٥) فَقَالَ دونوں پہروں میں نماز سنوار کر ادا کرو اور رات کے الْرَّجُلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَلِي هَذَا قَالَ بعض حصوں میں بھی۔کیونکہ نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں تو اس آدمی نے پوچھا: کیا یہ میرے لیے لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ۔طرفه: ٤٩٨٧۔تفریح: ہے؟ فرمایا: میری ساری امت کے لیے۔کتاب الوضوء باب ۲۴ روایت نمبر ۱۵۹ کی تشریح دیکھئے۔اُس میں اس کفارہ کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے کفارہ کے معنی وہ عمل جو گناہ کو چھپا دے یا اس کو مٹا دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفَي ط b النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (هود: (۱۱۵) یعنی دن کے دونوں ابتدائی اور آخری وقتوں میں نماز قائم کرو اور رات کے بعض حصوں میں بھی۔کیونکہ نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہیں۔یہ یاد رکھنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔فتنة کے لغوی معنی امتحان لینا، آزمانا، گندن کرنا، کھرے کھوٹے میں تمیز کرنا اور اس بُرے نتیجہ کو بھی کہتے ہیں جو امتحان کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔(لسان العرب تحت لفظ فتن) حدیث کے یہ معنی ہیں کہ ان چیزوں کی وجہ سے انسان معصیت کا مرتکب ہوتا ہے۔(لسان العرب تحت لفظ حدث) لیکن نیکیوں کے ذریعے سے وہ گناہ کے اثرات کو مٹا سکتا ہے۔تو بہ اور استغفار کا بھی یہی مفہوم ہے۔(دیکھئے کتاب الایمان شرح باب ۲۵: قیام ليلة القدر من الايمان روایت نمبر ۳۵) تبتل محض یعنی دنیا کے ہر قسم کے تعلقات سے الگ ہو جانا نیکی نہیں بلکہ میدانِ عمل میں رہ کر پھر کڑی آزمائش کی کسوٹی پر درست اتر نائیکی ہے۔حقوق النفس و حقوق العباد و حقوق اللہ کی کش مکش ہی ہے جس نے دنیا کی زندگی کو دارالا بتلاء بنا دیا ہے۔جو شخص ان مختلف حقوق میں توازن قائم رکھنے کے قابل ہو جاتا ہے وہی آزمائش میں پورا اترتا ہے۔حضرت عمر نے حضرت حذیفہ سے اس فتنہ کے متعلق ارشاد نبوی سن کر فرمایا کہ میری مراد اس فتنہ سے نہیں۔یہ امتحان اور آزمائش تو وہ فتنے ہیں جو روز مرہ ہوتے ہیں بلکہ میری مراد اس عظیم الشان فتنے سے ہے جو مسلمانوں میں سمندر کی طرح موجزن ہوگا اور یہ وہی فتنہ تھا جس کا ظہور حضرت عمر کی شہادت کے وقت ہو کر حضرت عثمان کی خلافت کے ایام میں اور پھر اُس کے بعد نہایت ہیبت ناک صورت اختیار کرتا چلا گیا۔کتاب الزکاۃ باب ۲۳: الصدقة تكفر الخطيئة روایت نمبر ۱۴۳۵ میں بھی اس کا ذکر مفصل آئے گا۔دروازہ توڑنے سے مراد حضرت عمر " کا شہید کیا جانا ہے۔ان دو قسم کے فتنوں میں سے ایک کی تعیین کرنے کے لیے روایت نمبر ۵۲۶لا ئی گئی ہے یعنی نماز بر وقت اور کما حقہ نہ پڑھنے یا اس کو ضائع کر دینے کے ساتھ