صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 626
صحيح البخاری جلد ا ۶۲۶ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا بوسہ لیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَیِ اس نے آپ کو بتایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ نازل فرمائی: أَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفَي النَّهَارِ ۔ دن کے يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (هود: ١١٥) فَقَالَ دونوں پہروں میں نماز سنوار کر ادا کرو اور رات کے الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذَا قَالَ بعض حصوں میں بھی۔ کیونکہ نیکیاں بدیوں کو دور کر لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ۔ دیتی ہیں تو اس آدمی نے پوچھا: کیا یہ میرے لیے طرفه ٤٩٨٧۔ ہے؟ فرمایا: میری ساری امت کے لیے۔ روایت نمبر ۱۵۹ کی تشریح دیکھئے۔ اُس میں اس تشریح: کتاب الوضوء باب ۲۳ روایت نمبر ۱۵۹ میں اس کفارہ کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے کفارہ کے معنی وہ عمل جو گناہ کو چھپادے یا اس کو مٹا دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفَي النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ : إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (هود: ۱۱۵) یعنی دن کے دونوں ابتدائی اور آخری وقتوں میں نماز قائم کرو اور رات کے بعض حصوں میں بھی۔ کیونکہ نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہیں۔ یہ یاد رکھنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ فتنة کے لغوی معنی امتحان لینا، آزمانا، گندن کرنا، کھرے کھوٹے میں تمیز کرنا اور اس بُرے نتیجہ کو بھی کہتے ہیں جو امتحان کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ (لسان العرب تحت لفظ فتن) حدیث کے یہ معنی ہیں کہ ان چیزوں کی وجہ سے انسان معصیت کا مرتکب ہوتا ہے۔ (لسان العرب تحت لفظ حدث ) لیکن نیکیوں کے ذریعے سے وہ گناہ کے اثرات کو مٹا سکتا ہے۔ تو بہ اور استغفار کا بھی یہی مفہوم ہے۔ (دیکھئے کتاب الایمان شرح باب ۲۵ قیام لیلة القدر من الايمان روایت نمبر ۳۵) تقبل محض یعنی دنیا کے ہر قسم کے تعلقات سے الگ ہو جانا نیکی نہیں بلکہ میدانِ عمل میں رہ کر پھر کڑی آزمائش کی کسوٹی پر درست اترنا نیکی ہے۔ حقوق النفس و حقوق العباد و حقوق الله وحقوق العباد و حقوق اللہ کی کش مکش ہی ہے جس نے دنیا کی زندگی کو دارالابتلاء بنا دیا ہے۔ جو شخص ان مختلف حقوق میں توازن قائم رکھنے کے قابل ہو جاتا ہے وہی آزمائش میں پورا اترتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت حذیفہ سے اس فتنہ کے متعلق ارشاد نبوی سن کر فرمایا کہ میری مراد اس فتنہ سے نہیں ۔ یہ امتحان اور آزمائش تو وہ فتنے ہیں جو روزمرہ ہوتے ہیں بلکہ میری مراد اس عظیم الشان فتنے سے ہے جو مسلمانوں میں سمندر کی طرح موجزن ہوگا اور یہ وہی فتنہ تھا جس کا ظہور حضرت عمر کی شہادت کے وقت ہو کر حضرت عثمان کی خلافت کے ایام میں اور پھر اُس کے بعد نہایت ہیبت ناک صورت اختیار کرتا ۔ ناک صورت اختیار کرتا چلا گیا ۔ کتاب الزكاة باب ۲۳ : الصدقة تـ تكفر الخطيئة روایت نمبر ۱۴۳۵ میں نمبر بھی اس کا ذکر مفصل آ۔ آئے گا۔ دروازہ توڑنے سے مراد حضرت عمر " کا شہید کیا جانا ہے۔ ان دو قتسم ۔ دو قسم کے فتنوں میں سے ایک کی تعیین کرنے کے لیے روایت نمبر ۵۲۶ لائی گئی ہے یعنی نماز بر وقت اور کما حقہ نہ پڑھنے یا اس کو ضائع کر دینے کے ساتھ رخ رم