صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 624 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 624

صحيح البخاری جلد ا ۶۳۴۴ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة باب ٣ : الْبَيْعَةُ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ نماز سنوار کر پڑھنے کا عہد لینا ٥٢٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۵۲۴ : محمد بن مثنی نے ہم سے بیان کیا، کہا: یچی قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: اسماعیل نے ہم سے إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ جَرِيرٍ بیان کیا، کہا: قیس نے حضرت جریر بن عبد اللہ سے بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُوْلَ اللهِ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے کہ میں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سنوار کر ادا کرنے وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالتَّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ۔ اور زکوۃ دینے اور ہر ایک مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنے کا عہد کیا۔ اطرافه: ٥٧ ، ۱٤٠١ ، ۲۱۵۷ ، ٢٧١٤ ، ٢٧١٥ ، ٧٢٠٤۔ تشریح : أَقامَ يُقِيمُ إقامة کے معی کسی کام ٹھیک طورپر کرنا اورہمیشہ جاری رکھنا (لسان العرب تحت الفظ قوم ) خود لفظ الصلوۃ کا اشتقاق جہاں سوز و گداز کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے وہاں دوام کا مفہوم بھی (لسان العرب تحت لفظ صلی ) مبتدی کی نماز کمزور حالت میں ہوتی ہے۔ اسی کمزوری کو مد نظر رکھ کر اِقامَةُ الصَّلوة کے یہ معنی ہونگے کہ نماز ٹھیک طرح ادا کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبایعین سے تو حید اور رسالت کا اقرار لینے کے بعد نماز سنوار کر پڑھنے کی بیعت لیا کرتے تھے۔ بَاب ٤ : الصَّلَاةُ كَفَّارَةً نماز ایک کفارہ ہے ٥٢٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۲۵ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا : بچی نے يَحْيَى عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثَنِي ہمیں بتایا کہ اعمش سے روایت ہے۔ کہا: شقیق نے شَقِيقٌ قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت حذیفہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا: تم میں سے کون فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُوْلِ اللهِ منہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ رکھتا ہے ؟ میں نے کہا: میں ویسے ہی جیسے کہ آپ نے