صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 612 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 612

صحيح البخاري - جلد ) ۶۱۲ - كتاب الصلوة بارے میں اجازت اس لیے نہیں دی گئی کہ نمازی کی نماز اس سے ٹوٹ جاتی ہے بلکہ نماز کا احترام قائم کرنے اور نمازی کو تشویش سے محفوظ رکھنے کے لیے ۔ چونکہ گزرنے والا نماز کی حرمت کا پاس نہیں رکھتا اور نمازی کو نماز سے بے توجہ کرتا اور روکنے سے نہیں رکتا ۔ اس لیے اس بے حرمتی اور خلل اندازی کی وجہ سے اس کو شیطان قرار دے کر اس کے گناہ کی اہمیت ظاہر کر دی گئی ہے۔ ا بَاب ١٠٦ : إِذَا حَمَلَ جَارِيَةً صَغِيْرَةً عَلَى عُنُقِهِ فِي الصَّلَاةِ اگر نماز میں (کوئی) اپنی گردن پر چھوٹی لڑکی اُٹھائے ٥١٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۱۶ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ ہمیں مالک نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے، عامر اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ نے عمرو بن سلیم زرقی سے، انہوں نے حضرت الزُّرَقِيَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِي أَنَّ ابوقتاده انصاری سے روایت کرتے ہوئے بتلایا کہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور حضرت يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ اُمامہ کو اُٹھائے ہوئے ہوتے جو کہ آپؐ کی صاحبزادی بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت زینب کی بیٹی تھیں جو ابو العاص بن ربیعہ بن وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ عبد الشمس سے تھیں۔ جب آپ سجدہ کرتے تو اُسے فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا۔ نیچے رکھ دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اُسے اٹھا طرفه ٥٩٩٦ لیتے ۔ کی نماز اس باب میں ایک اور مثال دے کر یہ امر واضح کیا گیا ہے کہ مسلم کی نماز کس قسم کی ہونی چاہیے۔ ا تشریح : ایک چھوٹے بچے کو اُٹھا کر نماز پڑھنا اور اپنی نماز میں توجہ قائم رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ بچہ کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ آپ نماز میں ہی اس کو نیچے بھی رکھتے اور پھر کندھے پر اٹھا بھی لیتے۔ مگر اس فعل سے آپ کی نماز میں کوئی فرق نہ آتا تھا۔ مسلم اور ابو داؤد دونوں کی روایت میں اس بات کی تصریح ہے کہ آپ اس وقت لوگوں کو نماز فریضہ پڑھا رہے تھے۔ (مسلم، کتاب المساجد۔ باب جواز حمل الصبيان فى الصلاة) (ابوداؤد كتاب الصلاة باب العمل في الصلاة) فقہاء نے عمل قلیل اور عمل کثیر کی شرطیں خواہ مخواہ قائم کر کے شریعت کو ایک گورکھ دھندہ بنا دیا ہے۔ یعنی یہ کہ اگر تھوڑا