صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 550 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 550

صحيح البخاری جلد ) ۵۵۰ - كتاب الصلوة باب ٦٥ : مَنْ بَنَى مَسْجِدًا جو مسجد بنائے ٤٥٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۴۵۰ : ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا (انہوں حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ نے کہا ) ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ عمرو نے بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ مجھے بتلایا کہ بگیر نے ان سے بیان کیا کہ عاصم بن عمرو فَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ بن قتادہ نے انہیں بتلایا کہ انہوں نے عبید اللہ خولانی الْخَوْلَانِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سے سنا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان کو جب يَقُوْلُ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيْهِ حِيْنَ بَنَى انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد بنوائی اور مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لوگ ان کے متعلق چہ میگوئیاں کرنے لگے یہ کہتے وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ أَكْثَرْتُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ ہوئے سنا: تم نے بہت باتیں کی ہیں اور حالانکہ میں النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ مَنْ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جس بَنَى مَسْجِدًا قَالَ بُكَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ ن مسجد بنوائی۔ بکیر نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں قَالَ يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ نے یہ کہا اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی چاہتا فِي الْجَنَّةِ۔ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اس جیسی عمارت بنائے گا۔ مدنظر باب ۶۲ ۶۳ ۶۴ اور باب ۶۵ ایک خاص ترتیب مد نظر رکھ کر قائم کیے گئے ہیں۔ باب ۶۲ کے عنوان میں تشریح: سب سب سے پہلے حضرت ابوسعید خدریؓ کا قول كَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ نقل کرنا اور باب ۱۵ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اسی تعمیر کا دوبارہ ذکر کرنا بتلاتا ہے کہ امام بخاری اس اعتراض کا جواب ان بابوں کی ترتیب میں دے رہے ہیں جو حضرت عثمان پر کیا گیا تھا۔ ایک ابتدائی حالت تھی کہ کھجور کی ٹہنیوں کی چھت تھی جو نمازیوں کو بارش سے نہیں بچا سکتی تھی۔ پھر حضرت عمرؓ کو ضرورت محسوس ہوئی کہ اس مسجد کی ایسی تعمیر کی جائے [ وَقَالَ أَكِنَّ النَّاسَ مِنَ الْمَطَرِ جولوگوں کو بارش سے بچائے۔ پھر حضرت عثمان کو ایک ضرورت محسوس ہوئی اور انہوں نے اس میں ضروری توسیع و تبدیلی کی۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی منبر بنوانے کی ضرورت پڑی اور آپؐ نے بڑھتی سے مدد لی۔ پس ضرورت کے مطابق مسجد بنوانا اور اس کی توسیع و تعمیر کی پختگی تلی میں میں کاریگروں کاریگروں ۔ سے کام لینا اور روپیہ خرچ کرنا جائے اعتراض اعتراض نہیں۔