صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 500 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 500

البخارى- جلد ا ۵۰۰ - كتاب الصلوة ۳۹۸ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ :۳۹۸ : ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے عَنْ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ عطاء سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔کہا: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے حضرت ابن عباس سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيْهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ آپ نے اُس کے تمام کونوں میں دُعا کی اور نماز نہیں فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ وَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُ۔پڑھی جب تک کہ بیت اللہ سے باہر نہیں آئے۔جب آپ باہر آئے تو آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔اطرافه: ١٦٠١ ، ٣٣٥١ ٣٣٥٢، ٤٢٨٨۔تشریح: آیت مذکورہ بالا کا حوالہ دے کر تین روایتیں مقام ابراہیم کی تعین نیز یہ ثابت کرنے کے لیے لائی گئی ہیں کہ مقام ابراہیم کو نماز گاہ بنانے سے مراد وہ خاص پتھر نہیں جو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے بلکہ مطلق کعبہ ہے۔پہلی روایت نمبر ۳۹۵ میں ہے: صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ۔یعنی اس مقام کے پیچھے نماز پڑھی۔اور روایت نمبر ۳۹۷ میں ہے کہ کعبہ کے اندر بھی پڑھی اور باہر نکل کر کعبہ کے سامنے بھی نماز پڑھی۔اس سے معلوم ہوا کہ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى (البقرة: ۱۲۶) سے مقام ابراہیم کی طرف منہ کرنا مراد نہیں۔بلکہ اس سے مطلق کعبہ مراد ہے۔اور روایت نمبر ۳۹۸ حضرت ابن عباس کی ہے۔اگر چہ اس میں اندر نماز پڑھنے کا ذکر نہیں مگر تا ہم ان کے الفاظ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَۃ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کعبہ کے سامنے دور کعتیں نماز پڑھی اور کعبہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: هذهِ القِبْلَةُ یہ قبلہ ہے۔حضرت ابن عباس چونکہ اس موقع پر موجود نہ تھے اس لئے حضرت بلال کی روایت کہ آپ نے اندر اور باہر دونوں جگہ نماز پڑھی زیادہ قابل اعتبار ہے۔حضرت ابن عباس کو صرف ایک بات کا علم ہوا ہے اور اس بات پر اجماع ہے کہ سب طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے۔