صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 481
البخاري - جلد ا باب ١٦: مَنْ صَلَّى فِي فَرُوجٍ حَرِيرِ ثُمَّ نَزَعَهُ جو شخص ریشمی فراک (یا) کوٹ میں نماز پڑھے پھر اُسے اُتار دے - كتاب الصلوة ٣٧٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۷۵ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيْدَ عَنْ أَبِي لیث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے یزید سے۔یزید نے الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أُهْدِيَ ابوالخیر سے۔ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر سے إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کو ایک ریشم کا حَرِيْرٍ فَلَبِسَهُ فَصَلَّى فِيْهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فراک (یا) کوٹ ہدیہ دیا گیا۔آپ نے اسے پہنا اور فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ وَقَالَ اس میں نماز پڑھی۔پھر فارغ ہوئے تو اسے جلدی سے اُتار دیا جیسے کہ آپ اس کو نا پسند کرتے ہیں۔اور لَا يَنْبَغِيْ هَذَا لِلْمُتَّقِينَ۔اطرافه: ۵۸۰۱ تشریح فرمایا کہ یہ متقیوں کے لائق نہیں ہے۔سولہویں باب کا مضمون بھی سابقہ باب کے مضمون کی تائید کرتا ہے۔آپ نے نماز نہیں دہرائی اور فرمایا: کا يَنبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ۔یہ متقیوں کے شایاں نہیں۔امام بخاری دوباتوں میں فرق کرتے ہیں۔کسی خاص قسم کے کپڑا پہنے کی ناپسندیدگی اور نماز کا فاسد ہو جانا۔ان میں سے ہر ایک اپنی نوعیت میں الگ ہے۔ان کا آپس میں لازم و ملزوم کا تعلق نہیں۔یعنی جیسے طہارت نماز کے لئے شرط لازم کی طرح ہے، ویسے یہ باتیں نہیں۔باب ۱۷: الصَّلَاةُ فِي التَّوْبِ الْأَحْمَرِ سرخ کپڑے میں نماز ٣٧٦ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْعَرَةَ ٣٧٦: ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا کہ عمر قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ بن ابی زائدہ نے مجھے بتلایا۔انہوں نے عون بن ابی عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ حجیفہ سے۔عون نے اپنے باپ سے روایت کی۔رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ وَّرَأَيْتُ چمڑے کے ایک سرخ خیمہ میں دیکھا اور حضرت بلال بِلَالًا أَخَذَ وَضُوْءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله کو دیکھا کہ انہوں نے وہ پانی لیا جس سے رسول اللہ