صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 478
البخاري - جلد ا - كتاب الصلوة باب ١٣: فِي كَمْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي القِيَابِ کتنے کپڑوں میں عورت نماز پڑھے وَقَالَ عِكْرِمَةُ لَوْ وَارَتْ جَسَدَهَا فِي اور عکرمہ نے کہا کہ اگر وہ اپنا بدن ایک ہی کپڑے میں چھپالے تو میں اسے جائز قرار دوں گا۔ثَوْبِ لَأَجَزْتُهُ۔۳۷۲ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۳۷۲ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔کہا: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ عروہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ کہتی تھیں: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے اور آپ يُصَلِّي الْفَجْرَ فَيَشْهَدُ مَعَهُ نِسَاءٌ مِّنَ کے ساتھ بعض مومن عورتیں بھی اپنی اوڑھنیوں میں الْمُؤْمِنَاتِ مُتَلَقِّعَاتٍ فِي مُرُوْطِهِنَّ ثُمَّ منہ لیٹے ہوئے نماز پڑھتیں۔پھر وہ اپنے گھروں کو يَرْجِعْنَ إِلَى بُيُؤْتِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ لوٹ جاتیں۔انہیں کوئی بھی نہ پہچانتا۔اطرافه ٥٧٨ ٨٦٧، ٨٧٢ تشریح عنوان باب میں حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام عکرمہ کا حوالہ دے کر اس گروہ کی رائے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو عورت کے لئے لمبی قمیص اور دوپٹہ ضروری سمجھتے ہیں۔(دیکھیئے البداية المجتهد۔کتاب الصلوة۔الجملة الثانية فى الشروط۔الباب الرابع الفصل الثانى فيما يجزئ من اللباس في الصلوة) مستند روایات میں تعداد کی تعین نہیں۔جسم اور سر کا ڈھانپنا ضروری ہے۔خواہ ایک ہی کپڑے سے جیسے ساڑھی سے بدن اور سر بآسانی ڈھانپا جاسکتا ہے۔بَاب ١٤: إِذَا صَلَّى فِي ثَوْبٍ لَّهُ أَعْلَامٌ وَنَظَرَ إِلَى عَلَمِهَا جب ایسے کپڑے میں نماز پڑھے جس میں نقش ہوں اور وہ ان نقشوں کو دیکھے ۳۷۳: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ :۳۷۳ ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن شہاب شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عروہ سے، عروہ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم