صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 474
البخاري - جلد ا - كتاب الصلوة بَاب ۱۱: الصَّلَاةُ بِغَيْرِ رِدَاءِ بغیر چادر نماز پڑھنا ۳۷۰: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۳۷۰: ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْمَوَالِي عَنْ کہا: ابوالموالی کے بیٹے نے محمد بن منکد رسے روایت مُّحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔کہا: میں حضرت جابر بن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبِ عبداللہ کے پاس گیا اور وہ ایک ہی کپڑے میں لیٹے مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ فَلَمَّا ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر پاس رکھی انْصَرَفَ قُلْنَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تُصَلِّي ہوئی تھی۔جب فارغ ہوئے تو ہم نے کہا: ابوعبداللہ ! وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوع قَالَ نَعَمْ أَحْبَبْتُ أَنْ آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کی چادر رکھی ہوئی يَّرَانِي الْجُهَّالُ مِثْلُكُمْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ہے۔کہا: ہاں۔میں نے چاہا کہ آپ جیسے ناواقف صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا۔مجھے دیکھیں۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح اطراف افه: ٣٥٢ ٣٥٣، ٣٦١۔پڑھتے دیکھا۔تشریح: باب ا قائم کرکے یہ امر واضح کیا ہے کہ باب نمبر کی روایتوں سے یہ سمجھ لیاجائے کہ اشتمال صماء، وغیرہ کے جواز یا عدم جواز کا مسئلہ ثابت کرنا مقصود ہے۔نہیں۔بلکہ اگرستر ظاہر نہ ہوتا ہوتو ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔جیسا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ نے پڑھی ہے۔بَابِ ۱۲: مَايُذْكَرُ فِي الْفَخِذِ ران کے متعلق جو بیان کیا جاتا ہے وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَّجَرْهَدٍ وَمُحَمَّدِ اور حضرت ابن عباس اور حضرت جرھد اور حضرت ابْنِ جَحْشٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ محمد بن جحش سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ الْفَخِذُ عَوْرَةٌ وَقَالَ أَنَسٌ حَسَرَ فرمایا که ران بھی ستر ہے۔اور حضرت انس کہتے تھے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَخِذِهِ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے کپڑا ہٹایا۔اور