صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 473
ری جلد ا - كتاب الصلوة وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ۔ہاتھ بغیر نگا ہونے کے باہر نہ نکال سکے اور اس سے کہ ایک ہی کپڑے میں ہو اور وہ گھٹنے اُٹھا کر بیٹھے۔اطرافه: ٥٨٤ ، ٥۸۸، ۱۹۹۳، ٢١٤٥، ۲۱٤٦، ۵۸۱۹، ۵۸۲۱ ٣٦٩: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۶۹ : ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا: یعقوب بن يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن شہاب کے بھتیجے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ نے اپنے چچا سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ انہوں نے کہا: حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے مجھے قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ في بتلایا کہ حضرت ابو ہریرہا کہتے تھے کہ مجھے حضرت ابوبکر مُؤَذِّنِيْنَ يَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنِّى أَلَا لَا نے اس حج میں قربانی کے دن مؤذنوں کے ساتھ بھیجا يَحُجُ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِدٌ وَّلَا يَطُوفُ تا کہ ہم منی میں یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ ہی کوئی ننگا اس گھر کا الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله طواف کرے۔حمید بن عبدالرحمن کہتے تھے کہ پھر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِنَ بِبَرَاءَةٍ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور ان سے فرمایا کہ وہ سورۂ برآءة بلند آواز قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنَى يَوْمَ النَّحْرِ لَا يَحُجُ بَعْدَ الْعَامِ سے سنائیں۔حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے کہ حضرت علیؓ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوْفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ۔نے بھی قربانی کے دن منی میں ہمارے ساتھ اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی ننگا اس گھر کا طواف کرے گا۔اطرافه ١٦٢٢، ۳۱۷۷، ٤٣٦٣، ٤٦٥٥ ٤٦٥٦ ٠٤٦٥٧ تشریح : اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ : کپڑا اپنے جسم پر اس طرح پیٹنا کہ ہاتھ وغیرہ اندر ہی رہیں اور جب ہاتھ نکالنے کی ضرورت ہوتو بغیر بنگا ہونے کے نہ نکل سکیں۔(لسان العرب تحت لفظ شمل) اِخْتِبَاء : گوٹھ مار کر بیٹھنا۔(لسان العرب تحت لفظ حبو ) دونوں صورتوں میں شرمگاہ ظاہر ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔باب ۱۰ کا عنوان اپنے مفہوم میں واضح ہے۔روایت نمبر ۳۶۷ سے امام موصوف "صرف اس قدر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ستر جس کا ڈھانپنا از بس ضروری ہے شرمگاہ ہے۔