صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 467
البخارى- جلد ا ۴۶۷ - كتاب الصلوة قُلْتُ كَانَ ثَوْبٌ قَالَ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا میں نے بات ختم کی تو آپ نے فرمایا: یہ کپڑا لپیٹنا فَالْتَحِفْ بِهِ وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ کیا ہے جو میں نے دیکھا؟ میں نے کہا: ایک ہی کپڑا تھا۔آپ نے فرمایا: اگر فراخ ہو تو اس کو اپنے اردگرد اطرافه: ۳۵۲، ۳۵۳، ۳۷۰ لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس سے تہ بند باندھو۔٣٦٢ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۶۲ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: بیٹی نے ہمیں يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ بتلایا کہ سفیان سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: عَنْ سَهْلٍ قَالَ كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّوْنَ مَعَ ابو حازم نے مجھے بتلایا کہ حضرت سہل سے مروی ہے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِيْ کہ انہوں نے کہا: کچھ لوگ بچوں کی طرح اپنی گردنوں پر اپنے نہ بند باندھے ہوئے رسول اللہ صلی أُزْرِهِمْ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ وَ قَالَ لِلنِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُؤْوْسَكُنَّ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔اور عورتوں سے کہا جاتا تھا کہ اپنے سراُس وقت تک حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوْسًا۔نہ اٹھا ؤ جب تک کہ لوگ سیدھے ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔اطرافه: ٨١٤، ١٢١٥- تشریح: باب سابقہ مضمون کی تائید کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر کو ہدایت کی کہ اگر کپڑا تنگ ہو تو نہ بند باندھو۔فراخ ہو تو سارے جسم پر لپیٹ لو۔اس سے ان لوگوں کا خیال غلط ثابت کیا ہے کہ مونڈھے اور پیٹھ وغیر ہ عورت یعنی ننگ ہیں اور یہ کہ ان کو ڈھانپے بغیر نماز جائز نہیں۔مَا هَذَا الاشْتِمَالُ الَّذِى رَأَيْتُ ؟ یہ استفہام انکاری ہے۔آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔کیونکہ اس سے نچلے حصہ کے نگا ہونے کا احتمال ہے۔امام موصوف نے یہی بات مدنظر رکھتے ہوئے باب ۵ کا عنوان ان الفاظ سے قائم کیا ہے: فَلْيَجْعَلْ عَلَى عَاتِقَيْهِ۔اس باب کی دوسری روایت سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کچھ لوگ تھے جو بچوں کی طرح تہ بند کندھوں پر باندھ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔کپڑا چھوٹا ہوتا؛ اس لئے سجدہ میں کبھی کوئی نگا بھی ہو جاتا۔حضرت جابر بن عبداللہ بھی انہیں میں سے ایک تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا۔پس عاقِدِی اُردھم سے مسئلہ اخذ کرنا درست نہیں۔باب ۳ کا مضمون آخر میں ڈھرا کر زیر بحث مسئلہ کی اصلیت واضح کر دی گئی ہے کہ اگر کپڑا فراخ ہو تو کندھوں سمیت سارے جسم کو ڈھانپ لے اور اگر تنگ ہو تو پھر بدن کے نچلے حصہ کو ڈھانپے۔عَاقِدِی اُزْرِ هم کی روایت کے بموجب تقلید بہر کیف ضروری نہیں۔قال کی جگہ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ يُقَالُ ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۶۱۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔