صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 466
صحيح البخاری جلد ا ۱۴۶۶ - كتاب الصلوة قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُوْلُ أَشْهَدُ میں نے حضرت ابو ہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں أَنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَقُوْلُ مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ سے یہ سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ جو ایک ہی کپڑے فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ۔ طرفه ٣٥٩ میں نماز پڑھے تو چاہئے کہ وہ مخالف سمت سے دونوں کناروں کو اُلٹ دے۔ پیٹ مہیں تشریح : اس باب کے ذیل میں پہلی حدیہ احدیث وہ لائی گئی ہے جس کی بناء پر بعض علماء نے یہ فتوی دیا ہے کہ پیٹھ اور دونوں ستر ہیں بغیر ان کو ڈھانے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ یہ فتوی رڈ کرنے کے لیے حضرت ابو ہریرہ کی مذکورہ بالا روایت کی ایک دوسری سند پیش کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَّاحِدٍ فَلْيُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ۔ اس میں ممانعت نہیں بلکہ صرف یہ ہدایت ہے کہ جو ایک کپڑے میں نماز پڑھے وہ اسے اس طرح باندھ لے۔ اس سے ننگا ہونے سے انسان بچ سکتا ہے۔ یہ ارشاد نبوی بطور ایک حکم جازم کے نہیں ۔ باب ٦ : إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا جب کپڑا تنگ ہو ٣٦١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ قَالَ ٣٦١ : ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا کہا: فلح بن حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سلیمان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سعید بن حارث الْحَارِثِ قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ سے روایت کی۔ کہا: ہم نے حضرت جابر بن عبدالله عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ سے ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تو انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وَسَلَّمَ فِي بَعْضٍ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُ لَيْلَةً آپؐ کے سفروں میں سے ایک سفر میں نکلا اور میں رات کو اپنے کسی کام کے لیے آیا تو آپ کو نماز پڑھتے لبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ہوئے پایا۔ اور میرے بدن پر ایک ہی کپڑا تھا تو میں ثَوْبٌ وَّاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى نے اپنے آپ کو اس میں لپیٹ لیا اور آپ کے پہلو جَانِبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ مَا السُّرَى يَا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ جب آپ نماز سے جَابِرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي فَلَمَّا فَرَغْتُ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: اے جابر! یہ رات کا قَالَ مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ آنا کیسے؟ میں نے آپ کو اپنی ضرورت بتلائی۔ جب