صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 447 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 447

صحيح البخاري - جلد ا ۴۴۷ - كتاب التيمم فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ لِهَذَا قَالَ نَعَمْ۔ لے ۔ اس پر میں نے شفیق سے کہا: تو پھر حضرت عبداللہ نے صرف اس وجہ سے ناپسند کیا ؟ کہا: ہاں۔ اطرافه ۳۳۸، ۳۳۹، ۳۷۰ ، ۳۷۱، ۳۷۲، 343، 345، 347 تشریح: عنوان باب میں حضرت رت عمرو بن عاص کا جو حوالہ دیا ہے ، وہ ابو داؤد اور حاکم وغیرہ نے موصولاً نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داود کتاب الطهارة باب اذا خاف الجنب البرد أيتيمم) (مستدرک حاکم کتاب الطهارة ۔ باب عدم الغسل للجنابة في شدة البرد) ذات السلاسل کی لڑائی کے اثناء میں ایک سردرات ان کو احتلام ہوا تو تیم کر کے انہوں نے نماز پڑھائی۔ ان کو ڈر ہوا کہ کہیں نہانے سے بیمار نہ ہو جائیں۔ ان کے ساتھیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے ان سے پوچھا: تو انہوں نے اپنا عذر پیش کرتے ہوئے یہ آیت پڑھی ۔ وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمُ رَحِيمًا۔ (النساء: ۳۰) نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور ان سے کچھ نہیں کہا۔ یہ واقعہ ہے جس کی طرف امام موصوف نے عنوان باب میں اشارہ کر کے اس مسئلہ کی تائید میں دو روایتیں پیش کی ہیں جو دو مختلف فتووں پر مشتمل ہیں۔ ایک حضرت عبداللہ بن مسعود کا فتوی جو حالت جنابت میں تیمیم کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے اور دوسرا حضرت ابو موسیٰ اشعری کا جو حضرت عمار بن یاسر کی روایت کی بناء پر جنبی کے لئے تیمیم کرنا جائز سمجھتے تھے۔ اثناء بحث میں حضرت ابو موسیٰ اشعری نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا۔ (المائدة: (۷) یعنی یہ آیت تو حدث اصغر یا حدث اکبر کی تخصیص نہیں کرتی بلکہ علی الاطلاق جنبی کو بھی پانی نہ ملنے پر تمیم کی اجازت دیتی ہے۔ ایسا ہی بیمار اور مسافر کو بھی اور وہ شخص جس کو سرد پانی سے اپنے بیمار ہو جانے کا ڈر ہو وہ بھی قیاساً بیماروں میں ہی شامل ہے۔ نیز وہ شخص بھی جس کے پاس صرف پینے کے لئے پانی ہو اگر اس سے وہ وضو کرتا ہے تو موت کا سامنا ہے۔ اگلے باب میں بھی اسی کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے جنبی کے متعلق سوال کیا تھا اور حضرت ابن مسعود نے اس کے لئے تیمم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں جب یہ اختلاف پیدا ہوا تو وہ دو گروہ تھے۔ ایک حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود کا اور دوسرا حضرت عمرو، حضرت عمار اور حضرت ابو موسیٰ کا ۔ باعتبار استدلال کے ثانی الذکر گروہ کی رائے صائب معلوم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے علمائے جمہور نے اسی گروہ کا فتویٰ قبول کیا ہے۔ حضرت عمر واقعہ بھول گئے ہیں اور ان کا یہ بھولنا حجت نہیں ہو سکتی اور حضرت ابن مسعودؓ آیت وَإِن كُنتُمْ جُنَّبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنتُمُ مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا (المائدة:) { ترجمہ: اور اگر تم جنبی ہو تو ( پورا عسل کر کے اچھی طرح پاک صاف ہو جایا کرو۔ اور اگر تم مریض ہو سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر آیا ہو۔ یا تم نے عورتوں سے تعلق قائم کیا ہو اور اس حالت میں تمہیں پانی نہ ملے تو خشک پاکیزہ مٹی کا تیم کرو۔ سن کر لا جواب ہو گئے ۔ کیونکہ اس آیت میں حدث اصغر اور حدث اکبر پانی نہ کا تیم یہ کر لا ۔ اور یا دونوں حالتوں میں پانی نہ ملنے پر تیم کی اجازت دی گئی ہے۔ غرض امام بخاری نے یہ باب باندھ کر جہاں تیمم کے متعلق دو نئے مسئلے بیان کیے ہیں وہاں سابقہ بابوں کے مضمون کی تائید میں مزید ثبوت بھی پیش کیا ہے۔