صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 446
صحيح البخاري - جلد ا م - كتاب التيمم لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمُ متعلق اجازت دے دیتا تو نوبت یہاں تک پہنچتی کہ الْبَرْدَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِي تَيَمَّمَ وَصَلَّى جب ان میں سے کوئی سردی محسوس کرتا تو وہ اسی طرح کر لیتا یعنی تیم کرتا اور نماز پڑھ لیتا۔ حضرت قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِّعُمَرَ قَالَ ابو موسی کہتے تھے کہ میں نے کہا کہ حضرت عمار کی إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ۔ وہ بات کہاں جائے گی جو اُنہوں نے حضرت عمرؓ سے کی۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں سمجھتا کہ حضرت عمار کی بات پر وہ مطمئن ہو گئے ۔ اطرافه: ۳۳۸، ۳۳۹، ۳۷۰ ، ۳۷۱ ، ۳۷۲، ٣٤٣، ٣٤٦، ٣٤٧۔ ٣٤٦: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ ۳۴۶ : ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہا: میرے حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اعمش نے سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ہمیں بتلایا۔ کہا: میں نے شقیق بن سلمہ سے سناء کہتے عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى تھے: میں حضرت عبداللہ اور حضرت ابو موسی کے پاس تھا تو حضرت ابو موسی نے ان سے کہا: عبد الرحمن کے أَرَأَيْتَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِذَا أَجْنَبَ باپ ! بھلا بتائیں کہ جب جنبی ہو اور پانی نہ پائے فَلَمْ يَجِدْ مَاءً كَيْفَ يَصْنَعُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ تو وہ کیا کرے؟ حضرت عبداللہ نے کہا: نماز نہ پڑھے لَا يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ فَقَالَ أَبُو یہاں تک کہ پانی پالے۔ تو حضرت ابو موسی نے کہا: مُوسَى فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِقَوْلِ عَمَّارٍ حِيْنَ آپ حضرت عمار کی بات کو کیا کریں گے؟ جبکہ نبی قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں ( تیم ہی ) يَكْفِيكَ قَالَ أَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِذَلِكَ کافی تھا۔ انہوں نے کہا: کیا تم نے حضرت عمر کو نہیں فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَدَعْنَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ دیکھا کہ وہ اس بات پر مطمئن نہیں ہے ں ہوئے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: حضرت عمار کی بات رہنے دو۔ اس كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَمَا دَرَى عَبْدُ آیت کو تم کیا کرو گے؟ تو حضرت عبداللہ کو کچھ نہ سوجھا اللَّهِ مَايَقُوْلُ فَقَالَ إِنَّا لَوْ رَخَصْنَا لَهُمْ فِي کہ کیا جواب دیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم ان کو اس دیں هَذَا لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ کے متعلق اجازت دے دیں تو قریب ہے کہ جب کسی الْمَاءُ أَنْ يَدَعَهُ وَيَتَيَمَّمَ فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ کو پانی ٹھنڈا لگے تو وہ اسے چھوڑ دے اور تمیم کر