صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 435
صحيح البخاري - جلد ا ۴۳۵ - كتاب التيمم أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ القِمَّةِ حضرت ابو جہیم بن حارث بن صمہ انصاری کے پاس الْأَنْصَارِي فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ أَقْبَلَ اندر گئے تو حضرت ابو جہیم نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيُّ مِنْ نَّحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ پر جمل کی طرف سے آرہے تھے کہ ایک شخص آپ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ نے اس کو جواب نہیں دیا۔ آپ سامنے دیوار کی طرف بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ۔ آئے اور اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا اور پھر آپ نے اس کو سلام کا جواب دیا۔ ملے تشریح: حضر میں تیم کرنا جائز ہے گر پانی سے اورنماز ضائع ہونے کا خوف ہو۔ عطاء اورحسن بالا فتووں اور حضرت ابن عمرؓ کے عملدرآمد کی تفصیل فتح الباری میں دیکھی جائے۔ ☆ رحسن کے محولہ فتح الباری جزء اول صفحه ۵۷۱ - ۵۷۲) جرف مدینہ طیبہ سے ایک فرسخ * ہے۔ ( فتح الباری الجزء الاول صفحہ ۵۷۲) مدینہ سے کوچ کے وقت اس مقام پر لشکر کے اکٹھے ہونے کے لیے ڑکا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر کے اتنے قریب کے فاصلہ پر تیم کر کے نماز پڑھنے سے ظاہر ہے کہ وہ بھی حضر میں تیمم کرنا جائز سمجھتے تھے۔ فَحَضَرَتِ الْعَصْرُ بِمَرُ بَدِ النَّعَمِ ۔۔۔۔: مَرْبَدِ نَعَم میں نماز عصر کا وقت ہو گیا اور انہوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور پھر مدینہ منورہ پہنچ کر وضو کے ساتھ نماز نہیں دہرائی۔ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ : اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر نے اس بات کا بھی خیال نہ کیا کہ نماز کا وقت کافی ہے۔ کیونکہ وہ مدینہ منورہ ایسے وقت میں داخل ہوئے ہیں کہ سورج کافی بلند تھا۔ امام بخارگی کو یہ باب باندھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ فقہاء کے درمیان یہ اختلاف ہوا ہے کہ آیت وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَا مَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّباً (المائدہ:۷) { ترجمہ: اور اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر آیا ہو۔ یا تم نے عورتوں سے تعلق قائم کیا ہوا اور اس حالت میں تمہیں پانی نہ ملے تو خشک پاکیزہ مٹی کا تیم کرو۔ میں جو فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً یعنی پانی نہ ملنے کی شرط ہے آیا وہ صرف مسافروں کے لئے ہے یا بیماروں اور دوسروں کے لئے بھی ہے جو حالت حضر میں ہیں۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے ہم خیال علماء کی یہ رائے ہے کہ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً میں صرف مسافر مخاطب کئے گئے ہیں کہ اگر وہ بے وضو یا جنبی ہوں اور ان کو پانی نہ ملے تو وہ تیمیم کریں۔ نیز بیمار بھی مخاطب ہیں ۔ امام مالک و امام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ آیت مشار الیہا میں تین الگ الگ صورتیں ہیں۔ بیمار، مسافر ، حاضر (یعنی وہ جو سفر میں نہیں ) مسافر اور حاضر بے وضو ہوں اور انہیں پانی نہیں ملتا تو وہ تیمیم کر ایک فرسخ تقریبا تین میل کے برابر ہوتا ہے۔ (لغات الحدیث تحت لفظ فرسخ )