صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 434 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 434

صحيح البخاري - جلد ا روایت نمبر ۶ رض - كتاب التيمم نمبر ۳۳۶ کا خلاصہ یہ ہے کہ پانی نہ ملنے پر صحابہؓ نے بغیر وضو کیے نماز پڑھی اور نہ نماز پڑھی اور نبی صلی اللہ علیہ تشریح مسلم نے ان کو ناز ہونے کا تم میں دیا یعنی آپ کے دو نماز جا علم ه نماز جائزہ قرار دی۔ امام بخاری را ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس واقعہ سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ جب مٹی بھی نہ ہو تو نماز پڑھ لے۔ نماز کا چھوڑ نا کسی صورت میں بھی جائز نہیں اور ان کا یہ استنباط اس قیاس پر مبنی ہے کہ اس وقت تک کہ جب تیمیم کا حکم نازل نہیں ہوا تھا شریعت کے اعتبار سے مٹی کا وجود کا لعدم تھا۔ یعنی مشروعیت تیمیم سے قبل مٹی کا ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہ رکھتا تھا۔ صحابہ نے جب پانی نہ ملنے پر نماز پڑھی ہے تو اس وقت گویا شریعت کی رو سے مٹی کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ مٹی کی اس عدم موجودگی میں ان کی نماز جائز مجھی گئی اور پھر باوجود تیم کا حکم نازل ہونے کے وہ نماز نہیں ڈھرائی گئی اس لئے اگر مٹی نہ ملے تو اس وقت نماز پڑھنے کے متعلق وہی طریق اختیار کیا جائے گا جو صحابہ نے پانی نہ ملنے پر اختیار کیا تھا۔ یعنی نماز پڑھ لی جائے ۔ یہ وہ بار یک استدلال ہے جو امام موصوف نے واقعہ مذکور سے کیا ہے۔ بَاب ٣ : التَّيَمُّمُ فِي الْحَضَرِ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَخَافَ فَوْتَ الصَّلَاةِ حضر میں تقسیم کرنا اگر پانی نہ ملے اور نماز ضائع ہونے کا ڈر ہو۔ وَبِهِ قَالَ عَطَاءٌ وَقَالَ الْحَسَنُ فِي عطاء نے بھی یہی کہا ہے اور حسن نے ایسے مریض کے الْمَرِيضِ عِنْدَهُ الْمَاءُ وَلَا يَجِدُ مَنْ متعلق جس کے پاس پانی تو ہو مگر وہ کسی ایسے شخص کو نہ يُنَاوِلُهُ يَتَيَمَّمُ وَأَقْبَلَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ پائے جو اسے پانی پکڑائے یہی فتویٰ دیا ہے کہ وہ تیم کر أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ فَحَضَرَتِ الْعَصْرُ لے اور حضرت ابن عمر اپنی اس زمین سے آرہے تھے جو بِمَرْبَدِ النَّعَمِ فَصَلَّى ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِينَةَ جُرف میں تھی کہ مَرْبَدُ النَّعم میں نماز عصر کا وقت ہو گیا تو انہوں نے نماز پڑھی اور پھر مدینہ میں داخل وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ فَلَمْ يُعِدْ۔ ہوئے اور سورج بلند تھا اور آپ نے نماز نہیں دہرائی۔ ۳۳۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۳۳۷: ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، الْأَعْرَجِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ جعفر نے اعرج سے روایت کی کہ میں نے حضرت عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ ابن عباس کے غلام عمیر سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں يَسَارٍ مَّوْلَى مَيْمُوْنَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت میمونہ کے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى (آزاد کرده) غلام عبداللہ بن بیمار آئے اور ہم