صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 423
صحيح البخاری جلد ) ٦ - كتاب الحيض کرنے سے یہی مطلوب ہے کہ اس اثناء میں حمل کا یقینی علم ہو جائے۔اس واضح مسئلہ کے متعلق بھی فقہاء نے بعض استثنائی صورتیں لے کر مختلف بخشیں اُٹھائی ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر مہینہ میں تین بار حیض آئے اور حمل ظاہر نہ ہو تو پھر کیا مطلقہ دوسری جگہ نکاح کرلے۔اس مسئلہ کے بارہ میں مشہور مذہب تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مدت حیض معتبر ہوگی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اور قاضی شریح رحمہ اللہ علیہ کا ایک فتویٰ نقل کیا گیا ہے کہ مطلقہ کے گھر کے اُن واقف حال لوگوں سے تحقیق کی جائے جو دین دار ہوں۔اُن کی شہادت مقبول ہوگی۔یعنی یہ شہادت کہ فی الواقع تین دفعہ حیض آیا تھا جس میں اس نے نماز چھوڑی تھی اور پھر حالت طہر میں نماز پڑھی تھی۔اس میں عطاء رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ یہ ہے کہ جو حیض حسب عادت طلاق سے پہلے آیا کرتے تھے، اُن کی مدت معتبر ہوگی۔ابن بختی کا بھی یہی فتویٰ ہے۔عطاء کے نزدیک مدت حیض کم از کم ایک دن ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن۔معتمر بن سلیمان تیمی کی روایت کی بناء پر ابن سیرین کا حوالہ دیا گیا ہے کہ مدت حیض کے متعلق عورتیں اپنی اپنی عادت کو سب سے بہتر جانتی ہیں۔اس لیے ہر ایک کی حالت کے مطابق معاملہ کیا جائے۔مسئلہ مذکورہ کے متعلق یہ فتوی نقل کر کے امام موصوف نے روایت نمبر ۳۲۵ کی بناء پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصولی ارشاد پیش کیا ہے۔یعنی ہر عورت کے ایام حیض بالعموم مقرر ہوتے ہیں۔وہ کمی بیشی کو بھی جانتی ہے۔پس اگر کسی بیماری کی وجہ سے غیر معمولی طور پر خون آئے تو سابقہ عادت کے مطابق اندازہ کر لینا چاہیے اور اس خون کو حیض شمار نہیں کرنا چاہیے۔باب ٢٥ : الصُّفْرَةُ وَالْكُدْرَةُ فِي غَيْرِ أَيَّامِ الْحَيْضِ ایام حیض کے علاوہ اور دنوں میں زردی اور گدلا پن ٣٢٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ :۳۲۶ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ کہا: اسماعیل نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ایوب سے، مُّحَمَّدٍ عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ قَالَتْ كُنَّا لَا ایوب نے محمد سے، محمد نے حضرت ام عطیہ سے نَعُدُ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا۔روایت کی۔وہ کہتی تھیں : ہم گدلے پانی اور زردی کو کچھ بھی شمار نہ کرتی تھیں۔تشریح : الصُّفْرَةُ وَالْكَدْرَةُ فِي غَيْرِ أَيَّامِ الْحَيْضِ : سابقہ مسلہ کے تعلق جو استدلال امام موصوف نے کیا تھا اس کی تائید میں ایک مستقل باب قائم کیا ہے۔اس ضمن میں باب ۱۹ کی شرح بھی دیکھی جائے جس میں حضرت عائشہ کے قول حَتَّی تَرَيْنَ الْقَصَّةَ الْبَيْضَاءَ پر جرح ہوتی ہے۔كُنَّا لَا نَعُد : یعنی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زردی اور گدلہ پن کی پرواہ نہیں کیا کرتی تھیں۔امام شافعی و امام ابو حنیفہ نے ایام حیض میں زردی مائل مادہ کو حیض شمار کیا ہے اور ایام حیض کے بعد حالت طہر میں اسے حیض نہیں قرار دیا۔حضرت عائشہؓ کی روایت مشار الیہا ایام حیض کے لیے مخصوص ہے۔اور حضرت ام عطیہ کی یہ روایت ایام حیض کے علاوہ دوسرے دنوں کے لیے۔حضرت ام عطیہ سے روایت کرنے والے محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔