صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 420 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 420

صحيح البخاری جلد ) ۴۲۰ ٦ - كتاب الحيض الْمَرْضَى فَسَأَلَتْ أُخْتِي النَّبِيَّ صَلَّی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہمیں گناہ ہوگا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس جلباب نہ ہو اور وہ نہ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَّهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَّا تَخْرُجَ نکلے؟ فرمایا: اس کی ساتھن اس کو اپنے جلباب کا ایک قَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا حصہ اوڑھادے اور چاہیے کہ وہ بھلے کاموں اور رغ وَلْتَشْهَدِ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِيْنَ مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہو۔ جب حضرت ام عطیہ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ سَأَلْتُهَا آئیں تو میں نے اُن سے پوچھا کیا آپ نے نبی صلی أَسَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۔ میرا قَالَتْ بِأَبِي نَعَمْ وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُهُ إِلَّا باپ آپ پر قربان ۔ اور جب بھی وہ آپ کا ذکر کرتیں قَالَتْ بِأَبِي سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ يَخْرُجُ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُوْرِ أَوِ تو کہتیں : میرا باپ آپ پر قربان ہو۔ میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ کنواریاں اور پردہ والیاں ۔ یا فرمایا: اور کنواری پردہ والیاں اور وہ عورتیں جنہیں حیض الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُوْرِ وَالْحُيَّضُ آیا ہو باہر نکلیں اور بھلے کاموں اور ایمان والو بان والوں کی دعا وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ میں شریک ہوں اور حائضہ عورتیں نماز گاہ سے الگ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى قَالَتْ رہیں۔ حفصہ کہتی تھیں : میں نے کہا، کیا حیض والی حَفْصَةُ فَقُلْتُ الْحُيَّضُ فَقَالَتْ أَلَيْسَ عورتیں بھی؟ تو انہوں نے کہا: کیا وہ (حج میں) تَشْهَدُ عَرَفَةَ وَكَذَا وَكَذَا ۔ عرفات اور فلاں فلاں مقام میں نہیں جایا کرتیں۔ اطرافه: ۳۵١، ۹۷۱، ۹۷۴، ۹۸۰، ٩٨١، ١٦٥٢۔ تشريح: شُهُودُ الْحَائِضِ الْعِيدَيْنِ: تورات کی روسے حائضہ نہ عبد میں داخل ہوسکی ہے اورنہ کسی عبادت وغیرہ میں شریک ہو سکتی ہے۔ (اخبار باب ۱۵، آیت (۲۹) مگر شریعت اسلامیہ نے حائضہ کو بعض عبادتوں میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے۔ جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس کے مسجد میں داخل ہونے کے متعلق بھی ویسا ہی اختلاف ہے جیسا ما جنبی کے متعلق ۔ (بداية المجتهد ۔ كتاب الغسل ۔ الباب الثالث في احكام هذين الحدثين أعنى الجنابة والحيض۔ المسئلة الاولى اختلف العلماء في دخول المسجد امام نووی نے حائضہ کے لیے ضروری نہیں قرار دیا کہ وہ نماز گاہ سے الگ رہے۔ ( فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۴۹) اور يَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّی کی یہ تشریح کی ہے کہ نماز گاہ میں موجود ہوتے ہوئے حائضہ کا عبادت میں نہ شریک ہونا ممکن ہے کہ اس سے اس کے نفس