صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 410 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 410

صحيح البخاری جلد ) - كتاب الحيض رَأْسَكِ وَامْتَشِطِيْ وَأَهِلَّي بِحَج نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا: فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ اپنا عمرہ چھوڑ دو اور اپنا سرکھول دو اور کنگھی کرلو اور حج أَرْسَلَ مَعِي أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ کا احرام باندھو۔چنانچہ میں نے (ایسا ہی) کیا۔آخر أَبِي بَكْرٍ فَخَرَجْتُ إِلَى التَّنْعِيمِ جب حصبہ کی رات ہوئی تو آپ نے میرے ساتھ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي قَالَ میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر کو بھیجا اور میں تعیم کو هِشَامٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ گئی اور اپنے عمرہ کے عوض میں دوسرے عمرہ کا احرام هَدْيَ وَلَا صَوْمٌ وَلَا صَدَقَةٌ۔باندھا۔ہشام نے کہا: ان میں سے کسی چیز میں بھی قربانی نہیں اور نہ روزہ اور نہ صدقہ۔اطرافه ٢٩٤، ٣٠٥، ۳۱٦، ۳۱۹، ۳۲۸، ١٥١٦، ١٥١٨، ١٥٥٦، ١٥٦٠، ١٥٦١، ،۱۷۷۱ ،۱۷۶۲ ،۱۷۰۷ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱۶۵۰ ،۱١٥٦٢، ٦٣٨ ،٤، ٤٤٠١۳۹۰ ،۲۹۸۴ ،۲۹۰۲ ،۱۷۸۸، ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ۷۲۲۹ ،٤٤٠٨، ٥٣٢٩، ٥٥٥٩،٥٥٤٨ ٦١٥٧ تشریح : نَقُضُ الْمَرْأَةِ شَعَرَهَا: سابقہ بابوں میں چونکہ فغسل حیض کی کیفیت کا سوال تھا اس لئے باب نمبر ۱۵ و ۱۶ میں نہانے کے وقت بال کھولنے اور کنگھی کرنے کا ذکر ضمنا لے آئے ہیں۔اور امام موصوف نے ان بابوں کی ترتیب میں ایک تصرف کیا ہے۔دونوں بابوں کی روایتیں ایک ہی واقعہ کے متعلق ہیں اور دونوں میں ارشاد نبوی کے یہ الفاظ ہیں: انقضى رَأْسَكِ وَامْتَشِطی یعنی سرکھولو اور مکھی کرو مگر باب قائم کرتے ہوئے پہلے کنگھی کرنے کا عنوان قائم کیا ہے اور اس کے بعد دوسرے باب میں سرکھولنے کا حالانکہ طبعی ترتیب یہ چاہتی تھی کہ پہلے سرکھولنے کا اور پھر لکھی کرنے کا باب باندھا جاتا۔علاوہ ازیں جب کنگھی کرنے کا باب قائم کیا تھا تو پھر بال کھولنے کا ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔امام بخاری نے طبعی ترتیب بدل کر بال کھولنے کا الگ باب اس اختلاف کی وجہ سے قائم کیا ہے جو حضرت ام سلمہ کی روایت کی بناء پر بعض علماء کے درمیان ہوا ہے۔حضرت ام سلمہ اپنے بالوں کی مینڈھیاں گوندھا کرتی تھیں۔غسل جنابت میں آنحضرت ﷺ نے ان کو اجازت دی کہ بغیر کھولنے کے سر دھو لیا کریں۔ایسا ہی مسلم کی ایک اور روایت میں غسل حیض و جنابت دونوں کے لئے اس اجازت کا ذکر ہے۔(مسلم، كتاب الحيض۔باب حُكم ضَفَائِرِ المغتسلة) اس بناء پر بعض علماء غسل حیض میں سر کے بال کھول کر دھونا ضروری نہیں سمجھتے مگر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ الْقُضِعُ رَأْسَكِ وَامْتَشِطِی کے صریح حکم سے اس کے وجوب کا استدلال کرتے ہیں۔