صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 405 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 405

صحيح البخاری جلد ) ۴۰۵ ٦ - كتاب الحيض اللَّهِ أَوْ هِشَامِ بْنِ حَسَانٍ عَنْ حَفْصَةَ کہا: یا (ایوب نے ) ہشام بن حسان سے ، انہوں عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ نے حفصہ سے حفصہ نے حضرت ام عطیہ سے، كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔کہتی تھیں ہمیں فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِ أَرْبَعَةَ مِن یا جا تا تھا کہ ہم میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں مگر خاوند پر چار مہینے اور دس دن۔اور نہ سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو لگا ئیں اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں، سوائے اس کپڑے کے کہ جو بننے سے پہلے رنگا گیا ہو۔اور طہر کے وقت جب ہم میں سے کوئی اپنے حیض سے فارغ ہونے پر نہائے تو ہمیں تھوڑی سی قسط کی خوشبو لگانے کی اجازت دی گئی اور ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا جاتا تھا۔( ابوعبداللہ بخاری نے ) کہا کہ اس کو ہشام بن حسان عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ نے حفصہ سے روایت کیا۔حفصہ نے حضرت ام عطیہ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَّصْبُوعًا إِلَّا تَوْبَ عَصْبٍ وَقَدْ رُخِصَ لَنَا عِنْدَ الظُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيْضِهَا فِي تُبْدَةٍ مِّنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتَّبَاعِ الْجَنَائِزِ قَالَ وَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔سے۔حضرت ام عطیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔اطرافه ۱۲۷۸ ، ۱۲۷۹ ، ٥٣٤۰، ١٣٤١، ٥٣٤٢، ٥٣٤٣۔تشريح : الطَّيِّبُ لِلْمَرْأَةِ عَنْدَ غُسلِهَا : علاوہ اس مذکورہ بالا تصرف کے امام بخاری نے یہاں بابوں کی ترتیب ایسے طور پر رکھی ہے کہ جس سے اس روایت کی اصل حقیقت خود بخود کھل جاتی ہے۔اس باب سے پہلے غَسْلُ دَمِ الْحَيْضِ کا باب ( نمبر ۹) قائم کر کے اصل مسئلہ جس پر عام عمل درآمد تھا واضح کیا ہے۔پھر اس کے بعد یہ باب (نمبر 1) قائم کیا ہے جس میں ایک رائج شدہ و ہم کا ازالہ کیا ہے جس کی وجہ سے اکثر غریب عورتیں نماز جیسے اہم فریضہ کو چھوڑ دیتی ہیں۔اس کے بعد چار باب قائم کئے ہیں جن میں حیض سے نہاتے وقت خوشبو استعمال کرنے اور بدن کومل کر نہانے اور حیض کے خفیف سے خفیف اثر کو بھی دور کرنے اور اس جگہ مشک وغیرہ لگانے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا حوالہ دیا ہے۔یہ ترتیب محض اس لئے قائم کی ہے کہ تا شارع اسلام کا اصل حکم اس ایک روایت کے مقابل پر واضح ہو جائے اور کسی استثنائی حالت یا شاذ واقعہ کا حوالہ دینے سے اصل مقصد سمجھنے میں غلط فہمی پیدا نہ ہو۔کیونکہ اصولی مسائل کی بناء شاذ حالتوں پر کبھی نہیں رکھی جاتی۔خصوصاً جب کہ شارع علیہ السلام کا اس کے متعلق کوئی ارشاد نہیں، بلکہ کسی ایک فرد کا عمل ہو جو اُسے بوجہ مجبوری کرنا پڑا۔اس سے پہلے کتاب الوضوء، باب البزاق والمخاط ونحوه في