صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 404 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 404

صحيح البخاری جلد ا نام مه کوم - كتاب الحيض خون کے ایک قطرہ لگنے کی صراحت ہے۔( فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۳۵) غرض امام موصوف نے ایک انتہائی صورت کا حوالہ دے کر اصل مسئلہ واضح کیا ہے۔قَالَتْ بِرِيْقِهَا فَمَصَعَتَهُ بِظُفْرِهَا : ان الفاظ سے گھن آتی ہے کہ وہ کیا انفاست طبع عور تیں تھیں کہ حیض کا خون تھوک سے صاف کرتی تھیں، پانی استعمال کرنے کی تکلیف بھی گوارہ نہ کرتیں۔امام ابن حجر نے یہ اشکال یوں حل کیا ہے کہ نویں باب کی دوسری روایت بھی حضرت عائشہ کی ہے جس میں وہ حیض کا نشان دھونے کے متعلق عام معمول بتلا رہی ہیں۔( فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۳۵) اس روایت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت (مندرجہ روایت نمبر ۳۰۷) کے ماتحت کپڑے سے خون کے داغ گھرچ کر پانی سے اس کو دھو ڈالتی تھیں۔یہاں حضرت عائشہ نے عام معمول کا نہیں بلکہ ایک استثنائی صورت کا ذکر کیا ہے جس کی بناء پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بطور استفتاء کے هَلْ تُصَلَّى الْمَرْأَةُ کا عنوان قائم کر کے اس وہم کو دور کیا ہے کہ عورت کا لباس محض اس لئے کہ اس نے اس میں ایام حیض گزارے ہیں نا پاک ہو جاتا ہے اور یہ کہ جب تک وہ اس لباس کو دھو نہ لے نماز چھوڑے رکھے۔مذکورہ بالا روایت سے یہ سمجھنا کہ عورتیں عموماً ایسا کیا کرتی تھیں واقعات اور عام عمل درآمد کے صریح خلاف ہے۔ابو داؤد نے حضرت عائشہ کی یہی روایت عطاء سے نقل کی ہے اس میں شَيْءٌ مِنْ دَم کی جگہ قَطْرَةً مِنْ دَم ہے یعنی قطرہ خون لگ جا تا رسنن ابی داؤد۔كتاب الطهارة۔باب المرأة تغسل ثوبها الذي تلبسه في حيضها) فَمَصَعَتُهُ یعنی اس کے اثر کو غائب کر دیتی۔ناخن کا استعمال کرنا ہی بتلاتا ہے کہ وہ اتنا خفیف اور خشک نشان ہوتا جو ناخن سے دور کیا جاتا۔علاوہ ازیں کسی ایک عورت کا نماز بر وقت پڑھنے کی خاطر اس طرح نشان کو عارضی طور پر دور کر دینے سے زیادہ سے زیادہ جو بات ثابت ہوتی ہے، وہ یہ کہ کسی خاص حالت میں جب کہ پانی پاس نہ ہو اور نماز کا وقت چلا جار ہا ہوا ایک غریب عورت نے ایسا کیا تھا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُس نے بعد میں پانی سے اسے دھویا نہیں۔یہ یادر ہے کہ امام موصوف باب کے عنوان میں جہاں بھی هَلْ استعمال کریں گے تو وہاں جواز یا عدم جواز کی طرف اشارہ کریں گے ایسا ہی جہاں من رکھیں گے وہاں بعض لوگوں کے عمل درآمد یا خیال کی طرف اشارہ کر کے اس پر بحث کریں گے۔بَاب ۱۲: الطَّيْبُ لِلْمَرْأَةِ عِنْدَ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيْضِ غسل حیض کرتے وقت عورت کا خوشبو لگانا ۳۱۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ ۳۱۳ : ہم سے عبد اللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا۔الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ایوب عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَ أَبُو عَبْدِ سے، ایوب نے حفصہ سے ، ابوعبداللہ (بخاری) نے