صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 403
صحيح البخاری جلد ا ٦ - كتاب الحيض چھوڑ دی ہے اور نہ اس کے معلوم کرنے میں کوئی عملی فائدہ ہے۔نیز ان تین روایتوں میں سے دو روایتوں میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ وہ بحالت نماز طشت رکھتیں۔اس لئے امام موصوف نے عنوانِ باب نیز روایتوں کی ترتیب سے اصل مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔یعنی یہ کہ بحالت استحاضہ عورت مختلف ہو سکتی ہے۔روایت نمبر ۳۱۱ کا بیان مختصر اور پہلی روایت کے مطابق ہے۔فَرُبَّمَا وَضَعَتِ الطَّرْتَ تَحْتَهَا سے مراد صرف یہ ہے کہ اپنے قریب نیچے طشت بوقت ضرورت استعمال کرنے کے لیے رکھ لیتیں تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَار میں لفظ تحت انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔بَاب ۱۱ : هَلْ تُصَلِي الْمَرْأَةُ فِي ثَوْبِ حَاضَتْ فِيْهِ کیا عورت اس کپڑے میں نماز پڑھے جس میں اسے حیض آیا ہو ٣١٢ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۱۲ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا: ابراہیم بن : إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيْحٍ نافع نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابن ابی بھیج سے۔عَنْ مُّجَاهِدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا ابن ابی بھیج نے مجاہد سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ حضرت عائشہ نے کہا: ہم میں سے کسی کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا جس میں اسے حیض آتا۔اگر اسے کچھ فِيْهِ فَإِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ قَالَتْ بِرِيْقِهَا فَقَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا۔خون لگ جا تا تو اپنا تھوک لیتیں اور اپنے ناخن سے اُسے دور کر دیتیں۔تشریح: هَلْ تُصَلّى الْمَرْأَةُ فِى ثَوْبِ حَاضَتْ فِيهِ : نویں باب میں حیض کا خون دھونے کے متعلق مسئلہ گذر چکا ہے۔یہاں حالت مجبوری کا ذکر کیا گیا ہے۔یعنی اگر کسی کے پاس ایک ہی کپڑا ہو اور اس میں ایام حیض گذارے تو کیا طہر کے بعد ایسے کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے یا یہ کہ جب تک اس کو دھونہ لے نماز نہ پڑھے۔امام موصوف نے ایک انتہائی صورت کا حوالہ دے کر یہ بتلایا ہے کہ محض حیض کی وجہ سے کوئی کپڑا نا پاک نہیں ہو جاتا۔عورتیں عموماً اس لباس میں نماز نہیں پڑھتیں جس میں ایام حیض گزارے ہوں۔بحالت طہر نماز چھوڑ نا جائز نہیں روایت میں ایک ہی کپڑے کے ہونے سے مراد حیض کا مخصوص کپڑا نہیں بلکہ مطلق لباس ہے۔باوجود احتیاط کے اسے خون کا داغ لگ سکتا ہے۔ایسی حالت میں نماز ترک کرنا جائز نہیں ہوگا۔خشک داغ گھر چ کر دور کیا جاسکتا ہے۔اگر کسی عورت کے پاس اور کپڑا نہ ہو اور اس داغ کو دھونے کا موقع بھی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ جیسے بھی وہ داغ با آسانی دور کر سکتی ہے دور کرے اور نماز پڑھے۔جس واقعہ کی طرف حضرت عائشہ نے اشارہ کیا ہے وہ ایک شاذ ہے۔اس سے یہ سمجھنا کہ عموماً ایسا ہوا کرتا تھا صحیح نہیں۔عنوان باب ایک عام و ہم دور کرنے کے لئے باندھا گیا ہے۔ابو داؤد کی ایک روایت میں