صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 399
صحيح البخاری جلد | ۳۹۹ ٢ - كتاب الحيض صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي کی لڑکی حضرت فاطمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ فَقَالَ رَسُوْلُ سے کہا: یا رسول اللہ ! میرا تو خون بند نہیں ہوتا۔ کیا میں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا ذَلِكِ نماز چھوڑ دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ فرمایا: یہ تو ایک رگ کا خون ہے ۔ حیض نہیں۔ پس الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ فَإِذَا ذَهَبَ جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو۔ جب اس کا مقررہ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي۔ وقت گذر جائے تو اپنے ( بدن ) سے خون دھو ڈالو اطرافه ۲۲۸، ۳۲۰، ۳۲۵، ۳۳۱۔ اور نماز پڑھو۔ صلى الله اپنے تشریح: عائضہ کے ناپاک ہونے کے متعلق جو اوہم زمانہ جا جو اوہام زمانہ جاہلیت سے چلے آتے تھے شارع اسلام علی نے عملی نمونہ سے ان کی اصلاح فرمائی اور آپ کی بیویوں نے اس اصلاح میں ان اخلاقی جرات سے کام لیتے ہوئے آپ کی پوری پوری مدد کی ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مستند اور نہایت صحیح روایتوں کی بناء پر بالترتیب یکے بعد دیگرے باب قائم کرتے ہوئے آخری مسئلہ یہ بیان کیا ہے کہ حائضہ نماز و روزہ اور طواف بیت اللہ کے سوا؛ جو ایک معنی میں نماز ہے، باقی تمام قسم کی عبادتیں بجالا سکتی ہے۔ روزہ اس لئے مستثنیٰ کیا گیا ہے کہ تکلیف مالا يطاق سے بچے اور نماز اس لئے کہ اس حالت میں جسمانی طہارت مفقود ہوتی ہے ۔ جو لوگ مذاہب عالم سے واقف ہیں وہ اس سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو کسی ذلت کے گڑھے سے نکال کر مرد کے پہلو بہ پہلو کھڑا کیا اور اس کے لئے بھی اسی طرح روحانی ترقیات میں آزادی کی راہ کھول دی ہے جس طرح مرد کے لئے ۔ ورنہ اس سے قبل وہ سوائے آلہ شہوت رانی اور خدمت گذاری کے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ حیض کے متعلق مسائل بیان کرنے کے بعد اب استحاضہ کے بارے میں آٹھواں باب باندھا گیا ہے۔ استحاضہ وہ خون ہے جو ایک بیماری کی وجہ سے بعض عورتوں کو ماہواری ایام کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی آتا ہے۔ (لسان العرب ۔ تحت لفظ حيض ۔ المجلد الثاني ۔ صفحه ۱۰۷۱) تو رات کے احکام استحاضہ کے احکام استحاضہ کے متعلق بھی ویسے ہی سخت ہیں جیسے حیض کے متعلق۔ اس کی رو سے عورت جب تک اس میں مبتلا رہے وہ ناپاک ہے۔ بلکہ خون استحاضہ بند ہونے کے بعد بھی وہ سات دن تک نا پاک رہتی ہے اور ہرشی جس کو وہ چھوئے گی ، ناپاک ہوگی بلکہ اس کو چھونے والا نہانے کے بعد بھی شام تک نا پاک رہتا ہے ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے: اخبار باب: ۱۵، آیت: ۲۵ ) مگر اسلام نے استحاضہ کو ناپا کی کا موجب قرار نہیں دیا اور مستحاضہ کو نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ روایت نمبر ۳۰۶ کتاب الوضوء باب غسل الدم روایت نمبر ۲۲۸ میں گذر چکی ہے۔ وہاں اس مسئلہ کی تفصیل دیکھئے۔