صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 397
صحيح البخاری جلد | ۳۹۷ آگیا۔ نبی علی صلى الله ٦ - كتاب الحيض فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ علی میرے پاس آئے اور میں رو رہی وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيْكِ تھی ۔ آپ نے فرمایا: تمہیں کیا بات ڈلا رہی ہے؟ قُلْتُ لَوَدِدْتُ وَاللهِ أَنِّي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ میں نے کہا: بخدا میری تو یہ آرزو ہے کہ اس سال حج قَالَ لَعَلَّكِ نُفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ کو نہ آئی ہوتی ۔ فرمایا: شاید تمہیں حیض آگیا ہے؟ میں ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ نے کہا: ہاں۔ فرمایا: یہ تو ایک ایسی بات ہے جو اللہ تعالیٰ فَافْعَلِيَّ مَا يَفْعَلُ الْحَاجُ غَيْرَ أَنْ لا نے آدم کی بیٹیوں کے لئے مقدر کر دی ہے۔ اس لئے جو کام حاجی کرتا ہے وہ تم کرو، سوائے اس کے کہ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي۔ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا تا وقتیکہ خون بند ہو جائے۔ اطرافه ٢٩٤، ٣١٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، 1516، 1518، 1556، 1560، 1561، ۱۷۷۱ ،۱۷۶۲ ، ۱۷۵۷ ، ۱۷۳۳ ، ۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ، ۱١٥٦٢ ، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٤٣٩، ٤٤٠١۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،١٧٨٦ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ٤٤٠٨ ، ٥٣٢٩، ٥٥٥٩،٥٥٤٨ ٦١٥٧، ٧٢٢٩ نگ رحمۃ تشريح : تَقْضِي الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ : امام بخار بیت اله علی نے ساتویں باب میں جنبی اور حائضہ کے متعلق چند مسائل یکجا درج کر کے فقہاء کے اس نقطہ نظر کی طرف اشارہ کیا ہے جس کی رو سے یہ دونوں حالتیں باعتبار شرعی احکام کے تقریباً ایک ہی حیثیت رکھتی ہیں۔ یعنی دونوں میں نماز کا پڑھنا جائز نہیں۔ ایسا ہی روزہ رکھنے اور ذکر کرنے اور قرآن مجید پڑھنے اور مسجد میں داخل ہونے وغیرہ کے جواز یا عدم جواز کے متعلق جو فتوے دئے گئے ہیں ، ان کا تعلق کم و بیش جنابت و حیض دونوں حالتوں سے تقریباً یکساں ہے۔ اس لئے ان کو ایک ہی باب میں قصداً اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ باب مذکور میں بہت سے حوالے دینے کے بعد ایک ہی روایت پیش کی گئی ہے جس کے ایک تو یہ معنی ہیں کہ مسائل مختلف فیہا کے متعلق جتنی روایتیں فقہاء کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں وہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شروط کے مطابق مستند نہیں۔ ( فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۲۹) اور دوسرے اس کے یہ معنی ہیں کہ جن جزئی مسائل میں اختلاف کیا گیا ہے وہ سب حضرت عائشہ کی مستند روایت سے حل ہو جاتے ہیں۔ حج کی عبادت میں طواف بیت اللہ ، لبیک ، تہلیل و تکبیر اور ذکر الہی اور دعائیں شامل ہوتی ہیں ۔ فَافْعَلِی مَا يَفْعَلُ الْحَاجَ غَيْرَانُ لَّا تَطُوفِي بِالْبَيتِ حَتَّى تَطْهُرِی کے ارشاد نبوی میں صرف طواف بیت اللہ کا استثناء کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ ذکر الہی اور دعائیں کر سکتی ہے۔ یہ اصل حکم ہے حائضہ کے متعلق ۔ رہا یہ مسئلہ کہ آیا وہ قرآن مجید بھی پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ابراہیم نخعی کا فتوئی جواز نقل کر کے اس خیال کورڈ کیا ہے کہ حائضہ کے قرآن مجید نہ پڑھنے کے بارے میں سب فقہاء متفق ہیں ۔